
سماجوادی پارٹی کے معروف لیڈر اعظم خان کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ لکھنؤ حج کمیٹی کی تقریباً 60 ہزار مربع فٹ زمین ایک پرائیویٹ بلڈر کو فروخت کرنے کے معاملے میں وجلنس محکمہ نے لکھنؤ سیکٹر تھانہ میں یہ مقدمہ درج کیا ہے۔ اعظم خان کے ساتھ ہی حج کمیٹی کے اس وقت کے سکریٹری لئیق احمد، ڈاکٹر ایم اے خان، امیش ڈیولپرس کے مالک محمد ایوب اور مستقیم احمد کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان سبھی پر الزام ہے کہ حج کمیٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زمین فروخت کی گئی، جس سے حکومت کو 2 کروڑ 8 لاکھ روپے سے زیادہ کے ریونیو کا نقصان ہوا۔
یہ ایف آئی آر اتر پردیش وجلنس اسٹیبلشمنٹ کے لکھنؤ سیکٹر تھانے میں 8 ستمبر کو دوپہر تقریباً 2.45 بجے درج کی گئی۔ اس ایف آئی آر کا نمبر 0018 ہے۔ سامنے آئی جانکاری کے مطابق تعزیرات ہند کی دفعات 420 اور 120-بی کے ساتھ ہی انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعات 7، 12، 13(1)(بی) اور 13(2) لگائی گئی ہیں۔ یعنی اس معاملے میں دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور بدعنوانی جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔
شکایت اتر پردیش وجلنس اسٹیبلشمنٹ، لکھنؤ کے انسپکٹر دھرو چندر موریہ نے درج کرائی ہے۔ اس معاملے میں مجموعی طور پر 5 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ پہلے نمبر پر محمد اعظم خان کا نام ہے، جو اس وقت ریاستی حج کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ دوسرے ملزم لئیق احمد ہیں، جو حج کمیٹی کے اس وقت کے سکریٹری رہ چکے ہیں اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ تیسرے ملزم ڈاکٹر ایم اے خان بھی حج کمیٹی کے اس وقت کے سکریٹری رہے ہیں اور وہ بھی ریٹائر ہو چکے ہیں۔ چوتھے ملزم محمد ایوب ہیں، جو امیش ڈیولپرس نامی کمپنی کے مالک ہیں۔ پانچویں ملزم کا نام مستقیم احمد ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق الزام ہے کہ ریاستی حج کمیٹی کے قوانین اور شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے لکھنؤ حج کمیٹی کی زمین امیش ڈیولپرس کو فروخت کر دی گئی۔ اس پورے سودے میں حکومت کو 2 کروڑ 8 لاکھ روپے سے زیادہ کے ریونیو کا نقصان ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ چونکہ اس زمین کو سرکاری جائیداد تصور کیا جاتا ہے، اس لیے مناسب کارروائی اختیار کیے بغیر اس کی فروخت کو سنگین بے ضابطگی قرار دیا جا رہا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ جانچ میں آگے کون سے نئے حقائق سامنے آتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔