جھارکھنڈ کی ووٹر لسٹ میں 3 افغان شہریوں کے نام، جے ایم ایم نے مرکزی وزارتِ داخلہ سے مانگا جواب

جھارکھنڈ کی ووٹر لسٹ میں 3 افغان شہریوں کے نام سامنے آنے پر جے ایم ایم نے مرکزی وزارتِ داخلہ سے سوال کیا کہ یہ شہری ہندوستان کیسے آئے اور ان کے ویزا و قیام کی اجازت کی نگرانی کس نے کی؟

<div class="paragraphs"><p>جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین / آئی اے این ایس</p></div>
i

رانچی: جھارکھنڈ میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ میں 3 افغان شہریوں کے نام سامنے آنے کے بعد تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ریاست کی حکمراں جماعت جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے اس معاملے کو لے کر براہِ راست مرکزی وزارتِ داخلہ کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کیا ہے اور غیر ملکی شہریوں کے ہندوستان میں داخلے، قیام اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی پر وضاحت طلب کی ہے۔

رانچی میں جے ایم ایم کے ترجمان منوج پانڈے نے کہا کہ سب سے پہلے مرکزی وزارتِ داخلہ سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ یہ تینوں افغان شہری جھارکھنڈ میں کیسے رہ رہے تھے اور انہیں ہندوستان میں رہنے کی اجازت کس نے دی تھی۔ انہوں نے ان کے ویزا کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ معلوم کیا جانا ضروری ہے کہ ان کے ویزا درست تھے یا نہیں اور اس معاملے کی تحقیقات کون کرے گا۔

منوج پانڈے نے کہا کہ کسی غیر ملکی شہری کے ہندوستان آنے، یہاں رہنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بارے میں نگرانی کی ذمہ داری متعلقہ حکومتی اداروں کی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ کے ساتھ مل کر اس طرح کے معاملات کی نگرانی کرتی ہے، اس لیے پہلے مرکزی حکومت کو وضاحت دینی چاہیے کہ مذکورہ افغان شہری کس کی اجازت سے ہندوستان آئے اور یہاں کیسے رہ رہے تھے۔


جے ایم ایم ترجمان نے اس موقع پر ریاست کی سابقہ بی جے پی حکومتوں پر بھی حملہ کیا۔ جے پی ایس سی اور اے ایس ایس سی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ 2000 سے 2023 کے درمیان مختلف ادوار میں تقرریوں میں پیسے اور اثر و رسوخ کے استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض معاملات میں ایک کروڑ روپے تک لیے جانے کی بات بھی سامنے آئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ریاستی ایجنسی نے ان معاملات سے متعلق کئی حقائق سامنے لائے ہیں اور اب یہ معلوم ہو رہا ہے کہ اس میں کون لوگ شامل تھے۔ پانڈے نے الزام لگایا کہ ماضی میں سیاسی مداخلت ہوئی اور اعلیٰ عہدوں پر موجود افراد بھی اس عمل میں شامل رہے، تاہم ان کے مطابق موجودہ تحقیقات میں اب تک کسی سیاست دان کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔

جے ایم ایم ترجمان نے گجرات میں شیل کمپنیوں کو ملنے والے ہزاروں کروڑ روپے کے چندے کے معاملے پر بھی مرکزی حکومت اور تحقیقاتی ایجنسیوں سے سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رقم کے ذرائع اور اسے بھیجے جانے کے مقصد کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے سی بی آئی اور محکمہ انکم ٹیکس سے بھی اس معاملے میں کارروائی کی وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس پر وائٹ پیپر جاری کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ مرکز اور الیکشن کمیشن اس معاملے پر کیا کارروائی کر رہے ہیں اور کیا الیکشن کمیشن صرف جھارکھنڈ میں قبائلی ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے ہی سرگرم ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔