قومی خبریں

سلمان خان کے گھر پر فائرنگ معاملے میں ایک اور ملزم حراست میں

پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے شخص پر شبہ ہے کہ وہ جیل میں بند گینگسٹر لارنس بشنوئی کے چھوٹے بھائی انمول بشنوئی سے ہدایات لے رہا تھا

<div class="paragraphs"><p>سلمان خان /&nbsp; تصویر: آئی اے این ایس</p></div>

سلمان خان /  تصویر: آئی اے این ایس

 

ممبئی: بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے گھر پر فائرنگ کے معاملے میں کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں ہریانہ سے ایک اور ملزم کو حراست میں لیا ہے۔ اس ملزم کا تعلق گجرات سے گرفتار ہونے والے دو اہم ملزمین سے بتایا جا رہا ہے۔ وہ واردات سے پہلے اور بعد میں دونوں حملہ آوروں سے مسلسل رابطے میں تھا۔

Published: undefined

نیوز پورٹل ’آج تک‘ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے شخص پر شبہ ہے کہ وہ جیل میں بند گینگسٹر لارنس بشنوئی کے چھوٹے بھائی انمول بشنوئی سے ہدایات لے رہا تھا۔ واضح رہے کہ سلمان خان کے گھر پر فائرنگ کے چند گھنٹے بعد ہی فیس بک پر ایک پوسٹ کی گئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس پوسٹ میں لارنس بشوئی کے چھوٹے بھائی انمول بشنوئی نے سلمان خان کے گھر پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اب تک کی تفتیش میں پولیس کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ حملہ آوروں کا تعلق لارنس بشنوئی گینگ سے ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ 14 اپریل کو باندرہ میں سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ ہوئی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں دو حملہ آوروں ساگر پال اور وکی گپتا کو حراست میں لیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں حملہ آور گرفتار ملزم کو اپنی سرگرمیوں کی معلومات دے رہے تھے۔ فائرنگ کے بعد ساگر اور وکی نے ممبئی چھوڑ دیا تھا۔ یہ دونوں یہاں سے گجرات کے بھج گئے تھے۔ انہوں نے سورت کے قریب موبائل فون کا سم کارڈ تبدیل کیا۔ پولیس کو چکمہ دینے کے لیے وہ بار بار اپنا موبائل فون بند کر دیتے تھے لیکن جس نمبر پر وہ کال کر رہے تھے وہ ایک ہی تھا۔

Published: undefined

پولیس کے مطابق تیسرے ملزم کو ہریانہ میں ٹریس کر کے پکڑا گیا ہے اور ممبئی لا کر اس سے تفتیش کی گئی ہے لیکن ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ساگر اور وکی کو سلمان خان ​​کے گھر پر شوٹنگ کے لیے تقریباً ایک لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے۔ باقی رقم کام کے بعد ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined