
آئی اے این ایس
نئی دہلی: ملک نے 77ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر ایک غیر معمولی اور یادگار منظر دیکھا، جب ہندوستانی فوج کی ریماؤنٹ اینڈ ویٹرنری کور کی خصوصی طور پر تیار کی گئی ’خاموش جوانوں‘ یعنی جانوروں کی ٹکڑی نے کرتویہ پتھ پر مارچ کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ قومی پریڈ میں جانوروں نے باقاعدہ طور پر حصہ لیا، جس کے ذریعے فوج نے سرحدی دفاع اور عملی تیاریوں میں جانوروں کے ناگزیر کردار کو نمایاں کیا۔ اس مظاہرے نے فوجی طاقت کے اس پہلو کو عوام کے سامنے رکھا جو عموماً پردے کے پیچھے رہتا ہے، مگر زمینی حقیقت میں بے حد اہم ہے۔
Published: undefined
اس خصوصی دستے میں دو طاقتور بیکٹرین اونٹ، چار جانسکر ٹٹو، چار تربیت یافتہ شکاری پرندے، دس دیسی نسل کے آرمی ڈاگ اور اس وقت خدمات انجام دینے والے چھ روایتی فوجی کتے شامل تھے۔ دستے کی قیادت بیکٹرین اونٹ کر رہے تھے، جنہیں حالیہ برسوں میں لداخ کے سرد ریگستانی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ یہ اونٹ شدید سردی، کم آکسیجن اور 15 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی جیسے سخت حالات کے لیے قدرتی طور پر موزوں ہیں۔ کم پانی اور محدود خوراک کے ساتھ طویل فاصلے طے کرنے کی صلاحیت رکھنے والے یہ اونٹ ڈھائی سو کلوگرام تک وزن اٹھا سکتے ہیں، جس سے حقیقی کنٹرول لائن پر فوجی رسد اور گشت کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
Published: undefined
ان کے ساتھ مارچ کرنے والے جانسکر ٹٹو لداخ کی ایک نایاب پہاڑی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ جسامت میں چھوٹے ہیں، مگر ان کی برداشت غیر معمولی ہے۔ یہ ٹٹو پندرہ ہزار فٹ سے زیادہ بلندی اور منفی چالیس ڈگری سیلسیس تک کے درجۂ حرارت میں چالیس سے ساٹھ کلوگرام تک وزن طویل فاصلے تک لے جا سکتے ہیں۔ سن 2020 میں فوج میں شامل کیے جانے کے بعد سے انہیں سیاچن گلیشیئر سمیت نہایت دشوار گزار علاقوں میں تعینات کیا جا چکا ہے۔
پریڈ میں شامل چار شکاری پرندوں نے نگرانی اور پرندوں کے خطرات کی روک تھام کے شعبے میں فوج کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ ان پرندوں کا استعمال حساس علاقوں میں قدرتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ایک مؤثر مثال ہے، جو حفاظتی انتظامات اور حالات سے باخبر رہنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
Published: undefined
اس تاریخی مارچ کا ایک اہم حصہ فوجی کتوں کی شرکت تھی، جنہیں ہندوتان فوج کے خاموش سپاہی کہا جاتا ہے۔ میرٹھ کے ریماؤنٹ اینڈ ویٹرنری کور سینٹر اور کالج میں پرورش اور تربیت پانے والے یہ کتے دہشت گردی مخالف کارروائیوں، بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی، نگرانی، ٹریکنگ، آفات کے دوران امداد اور تلاش و بچاؤ جیسے مشنوں میں سپاہیوں کے شانہ بشانہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان کتوں اور ان کے ہینڈلرز نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا ہے اور جنگی و انسانی ہمدردی کے مشنوں میں اعزازات بھی حاصل کیے ہیں۔
خود کفیل ہندوستان اور میک اِن انڈیا کے وژن کے تحت فوج نے مدھول ہاؤنڈ، رامپور ہاؤنڈ، چِپّی پرائی، کومبائی اور راجپالایم جیسی دیسی نسلوں کے کتوں کو بھی تیزی سے شامل کرنا شروع کیا ہے۔ یومِ جمہوریہ کی اس پریڈ نے نہ صرف فوجی روایت کو ایک نیا رنگ دیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی جانور ہندوستانی فوج کی طاقت اور کامیابی کا ایک اہم ستون ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined