قومی خبریں

ویدانتا گروپ کے چیئرمین انل اگروال کے بیٹے کا انتقال، علاج کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ہوا انتقال

کاروباری انل اگروال کے بیٹے اگنیویش کا انتقال ہو گیا ہے۔ امریکہ میں اسکیئنگ کے ایک حادثے کے بعد علاج کے دوران انہیں دل کا دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہو گیا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ سوشل میڈیا، گریب</p></div>

تصویر بشکریہ سوشل میڈیا، گریب

 

صنعتی ذہن رکھنے والے انل اگروال  پر ٹوٹا غم کا پہاڑ ۔ ان کے بیٹے اگنیویش اگروال کا امریکہ میں انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر صرف 49 سال تھی۔ اس خبر نے نہ صرف اگروال خاندان بلکہ ان سے جڑے ہر فرد کو گہرے غم میں مبتلا کر  دیا ہے۔

Published: undefined

خود انل اگروال نے اس خبر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا سب سے تکلیف دہ دن قرار دیا اور لکھا کہ بیٹے کو اپنے باپ سے پہلے اس دنیا سے رخصت نہیں ہونا چاہیے۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق اگنیویش اپنے ایک دوست کے ساتھ امریکہ میں  اسکیٔنگ کرنے گئے تھے۔ وہیں وہ ایک حادثے کا شکار ہوئے۔انہیں علاج کے لیے نیویارک کے ماؤنٹ سینائی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ گھر والوں کو امید تھی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن پھر، اگنیوش کو دل کا دورہ پڑا، جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

Published: undefined

49 سالہ اگنیویش اگروال ویدانتا گروپ کی کمپنی تلونڈی سبو پاور لمیٹڈ(ٹی ایس پی ایل) کے بورڈ میں تھے۔ انل اگروال کے دو بچے تھے - ان کا مرحوم بیٹا اگنیویش اور بیٹی پریا۔ پریا ویدانتا کے بورڈ میں ہیں اور ہندوستان زنک لمیٹڈ کی چیئرپرسن کے طور پر کام کرتی ہیں۔اگنیویش اگروال 3 جون 1976 کو پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میو کالج، اجمیر سے تعلیم حاصل کی۔ انہیں باکسنگ اور گھڑ سواری کا شوق تھا۔

Published: undefined

انل اگروال نے اپنے بیٹے کی موت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا، "میں نے اگنیویش سے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے پاس جو بھی دولت ہوگی اس کا 75 فیصد سے زیادہ ہم سماجی کاموں کے لیے خرچ کریں گے۔ آج میں اس وعدے کو دہراتا ہوں۔ اب میں زیادہ سادہ زندگی گزاروں گا اور اپنی باقی زندگی اسی کے لیے وقف کروں گا۔"اپنی پوسٹ کے آخر میں ویدانتا گروپ کے چیئرمین نے لکھا کہ ’’مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گا بیٹا۔ زندگی تیرے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی لیکن میں تیرے خواب ادھورے نہیں رہنے دوں گا۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined