
زلزلہ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس
کچھ دنوں قبل ہی کولمبیا میں آئے 7.4 شدت کے زلزلہ نے زبردست تباہی مچائی، اور اب آج صبح سویرے ہندوستان کے لداخ میں زلزلہ نے لوگوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق علی الصبح لداخ کے لیہہ میں زلزلہ کا شدید جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی ہے۔ نیشنل سینٹر فار سسمولوجی کے مطابق صبح 6:05 بجے زلزلہ آیا تھا، جس کا مرکز 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
جس وقت لیہہ میں زمین ڈولی، لوگوں کے سو کر اٹھنے کا وقت تھا۔ کئی لوگ دفتر نکلنے کی تیاریوں میں مصروف تھے، اور پھر جیسے ہی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے، سبھی فوراً گھروں سے باہر نکل آئے۔ چند ہی منٹوں میں ہر جگہ افراتفری کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی جانی و مالی نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔
اس سے قبل مہاراشٹر کے پال گھر میں پیر کی شب تقریباً ایک گھنٹے کے اندر 2 بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ دونوں جھٹکوں کی شدت 3.4 تھی۔ پہلا جھٹکا رات 10:04 بجے آیا تھا۔ اس کے تقریباً 56 منٹ بعد 11 بجے دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا تھا۔ مسلسل 2 جھٹکوں سے لوگ خوف زدہ ہو گئے تھے اور کئی لوگ گھروں سے باہر بھی نکل آئے تھے۔ حالانکہ کچھ ہی دیر بعد سب کچھ معمول پر آ گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ زلزلہ آنے کی بنیادی وجہ زمین کے اندر موجود ٹیکٹونک پلیٹوں کا آپس میں ٹکرانا یا کھسکنا ہے۔ سائنسی تجزیوں کے مطابق، ہماری زمین کی بالائی سطح بنیادی طور پر 7 بڑی اور کئی چھوٹی ٹیکٹونک پلیٹوں سے مل کر بنی ہے۔ یہ پلیٹیں زمین کے اندر موجود مائع لاوے کے اوپر انتہائی سست رفتاری سے تیرتی رہتی ہیں۔ یہ پلیٹیں ہر سال اپنی جگہ سے چند ملی میٹر کھسکتی ہیں۔
اس دوران جب یہ آپس میں ٹکراتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ اور رگڑ پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ دباؤ ایک حد سے زیادہ ہو جاتا ہے تو اندر موجود چٹانیں اچانک ٹوٹ جاتی ہیں۔ اس سے برسوں سے جمع بھاری توانائی اچانک لہروں کی شکل میں باہر نکلتی ہے۔ یہی توانائی جب لہروں کی صورت میں زمین کی سطح تک پہنچتی ہے تو ہمیں زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جسے ہم زلزلہ کہتے ہیں۔ 5.0 سے 5.9 شدت والے زلزلوں کو خطرناک جھٹکا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کچے مکانات گر سکتے ہیں۔ بھاری فرنیچر اپنی جگہ سے ہل جاتا ہے اور مضبوط مکانات کی دیواروں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔