’وقت ہے استعفیٰ کا اور کارروائی کا‘، راہل-پرینکا کو حراست میں لیے جانے کے بعد کھڑگے کا اہم تبصرہ

کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لیے ہمیں جتنی بار بھی سڑکوں پر اترنا پڑے، گرفتار ہونا پڑے یا کیس جھیلنے پڑیں، کانگریس پارٹی اور اپوزیشن اس کے لیے تیار ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

دہلی پولیس اور انتظامیہ نے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت درجنوں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو حراست میں لے کر جنتر منتر جانے سے روک دیا ہے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی جبراً حراست میں لے کر بس میں بٹھائے جانے کی کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انتظامیہ کسی بھی حال میں انھیں جنتر منتر جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں نے آج فیصلہ کیا تھا کہ ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جو کہ راجدھانی میں مختلف احتجاجوں کے لیے مختص جگہ ہے۔ لیکن ساگر رتن ریسٹورینٹ سے جنتر منتر کی طرف بڑھتی ہوئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی بسوں کو درمیان میں ہی روک دیا گیا۔ راہل اور پرینکا سمیت کئی اپوزیشن لیڈران و کارکنان نے پیدل جنتر منتر جانے کی کوشش کی، لیکن اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو دہلی پولیس کے ذریعہ جبراً حراست میں لیے جانے کے درمیان کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لیے ہمیں جتنی بار بھی سڑکوں پر اترنا پڑے، گرفتار ہونا پڑے یا کیسز جھیلنے پڑیں، کانگریس پارٹی اور اپوزیشن اس کے لیے تیار ہے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’تاناشاہ مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کا یہ جو اتحاد ہے، اس کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔ وقت ہے استعفیٰ کی اور کارروائی کی۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’متکبر اقتدار عوام کے جذبے کے آگے زیادہ دیر ٹک نہیں سکتی۔‘‘


اس درمیان کانگریس نے کئی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو جبراً حراست میں لیے جانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے کئی تلخ تبصرے کیے ہیں۔ ایک ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’نریندر مودی بزدل ہے‘‘، اور ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے ’’دیکھیں کتنا ظلم کرو گے، کتنا زور لگاؤ گے/ سچ ہمارے ساتھ ہے، ہماری ہمت نہ توڑ پاؤ گے۔‘‘ ایک پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’کانگریس نے شکست ماننا نہیں سیکھا، یہ جنگ گیانیش کے استعفیٰ تک جاری رہے گی‘‘، اور دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا ہے ’’ملک سے بغاوت کرنے والوں اور غداروں کے خلاف ہماری جنگ رکنے والی نہیں ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔