قومی خبریں

عالمی کشیدگی کے درمیان حکومت کا نیا اعلان، خام تیل اور قدرتی گیس کا رائلٹی نظام تبدیل

حکومت کے فیصلے کے بعد دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اب تیل اور گیس پیدا کرنے والی کمپنیوں کو حکومت کو کتنا ادائیگی کرنا ہوگی اور اس کا شمار کیسے ہوگا، اس کے ضوابط پہلے کے مقابلے زیادہ واضح اور آسان ہوں گے۔

ہردیپ سنگھ پوری، تصویر یو این آئی
ہردیپ سنگھ پوری، تصویر یو این آئی 

عالمی سطح پر بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی سپلائی کے حوالے سے بڑھتے خدشات کے درمیان مرکزی حکومت نے تیل اور گیس سیکٹر میں بڑی پالیسی تبدیلی کی ہے۔ حکومت نے خام تیل اور قدرتی گیس اور کیسنگ ہیڈ کنڈینسیٹ کے لئے رائلٹی شرحوں اور ان کے حساب کے طریقہ کار کو معقول بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Published: undefined

پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ اس فیصلے کی معلومات دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ قدم ہندوستان کے اپ اسٹریم سیکٹر کے نئے دور کی شروعات کرے گا۔ ان کے مطابق اس سے طویل وقت سے جاری پالیسی ساز تضادات ختم ہوں گے نیز تیل گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

Published: undefined

مرکزی وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٓاو آر ڈی ایکٹ اور پی این جی قوانین میں 2025 میں کی گئی ترامیم کے بعد اب رائلٹی نظام کو بھی مزید آسان، شفاف اور یکساں بنایا گیا ہے۔ اس سے الگ الگ معاہدوں اور پالیسیوں میں موجود فرق ختم ہوں گے اور کمپنیوں کو واضح قوانین کے تحت کام کرنے میں آسانی ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نیا نظام سرمایہ کاروں کے لیے مستحکم اور موافق کاروباری ماحول فراہم کرے گا۔ اس سے گھریلو اور غیر ملکی کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور ہندوستان میں تیل اور گیس کی دریافت اور پیداوار میں سرمایہ کاری تیز ہوسکتی ہے۔

Published: undefined

حکومت کے فیصلے کے بعد دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اب تیل اور گیس نکالنے والی کمپنیوں کو حکومت کو کتنا ادائیگی کرنا ہوگی اور اس کا شمار کیسے ہوگا، اس کے ضوابط پہلے کے مقابلے زیادہ واضح اور آسان ہوں گے۔ اس سے کمپنیوں کے لئے پالیسی سے متعلق غیر یقینی کم ہوگی۔ مرکزی وزیر نے اسے ہندوستان کے توانائی سیکٹر کو جدید بنانے کی سمت میں بڑا قدم بتایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل قوانین کی جگہ یکساں اور مسابقتی نظام کو نافذ کرنا چاہتی ہے جو عالمی معیار کے مطابق ہو۔

Published: undefined

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کی وجہ سے عالمی توانائی بازار میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ اسی دوران وزیر اعظم مودی نے ہم وطنوں سے ایندھن بچانے اور توانائی بچت کی عادت ڈالنے کی اپیل کی ہے۔  وزیر اعظم نے عوامی نقل و حمل، صاف توانائی اور ضرورت پڑنے پر ورک فرام ہوم نیز ورچول میٹنگس جیسے متبادل کو اپنانے کی صلاح دی ہے تاکہ پٹرول اور ڈیزل کا خرچ کم ہوسکے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ نیا رائلٹی نظام گھریلو پیدا وار بڑھانے اور ملک کی توانائی کی حفاظت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حالانکہ جویلری اور پٹرولیم سیکٹر سے وابستہ ہزاروں افراد وزیر اعظم مودی کی اپیل کے خلاف احتجاج کرنے لگے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined