
وزارت داخلہ، تصویر آئی اے این ایس
مرکزی وزارت داخلہ نے شہریت قانون، 2009 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والی شہریت کے درخواست دہندگان کے لیے پاسپورٹ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی کر دی گئی ہے۔ حکومت کے اس قدم کو شہریت کے عمل کو شفاف اور سخت بنانے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
نئے التزام کے مطابق شہریت کے لیے درخواست دینے والے مذکورہ تینوں ممالک کے درخواست دہندگان کو اب اپنے پاسپورٹ سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنا ضروری ہوگی۔ اس میں شناخت، سفرکی تفصیل اور دیگر مطلوبہ دستاویزات کی تصدیق شامل ہو گی۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ شہریت کے عمل میں کسی بھی طرح کی بے ضابطگی یا دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے یہ تبدیلی کی گئی ہے۔ اس میں یہ واضح کرنا ہوگا کہ ان کے پاس متعلقہ ممالک کا مجاز یا ایکسپائر پاسپورٹ ہے یا نہیں۔ اگر درخواست دہندہ کے پاس ایسا پاسپورٹ ہے تو انہں مطلوبہ معلومات (پاسپورٹ نمبر، جاری ہونے کی تاریخ اور جگہ، ایکسپائری تاریخ) دینا ضروری ہوگی۔
Published: undefined
نئے التزام کے مطابق جن درخواست دہندگان کے پاس ایسے پاسپورٹ ہوں گے، انہیں شہریت کی درخواست منظور ہونے کے 15 دن کے اندر متعلقہ افسران کے پاس پاسپورٹ جمع کرنا ہوگا۔ سرکاری افسران کے مطابق تازہ ترمیم دستاویزی عمل کو آسان بنانے اور شہریت کی درخواست میں شفافیت کے مقصد سے کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ نے شہریت سے متعلق قوانین کے شیڈول آئی سی میں نئی شق شامل کی ہے، جس سے درخواست کے عمل کو مزید واضح اور سخت بنایا گیا ہے۔
Published: undefined
یہ ترمیم خاص طور پر پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے درخواست دہندگان پر نافذ ہوگی۔ ان ممالک کے شہری اگر ہندوستان میں شہریت کے لیے درخواست دیتے ہیں تو انہیں نئے قوانین کی تعمیل کرنی ہوگی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق شہریت کی درخواست کے عمل کو مزید مضبوط اور محفوظ بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس سے درخواست دہندگان کی شناخت اور ان کے پس منظر کی بہتر طریقے سے تصدیق ہو سکے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ شہریت صرف انہیں لوگوں کو ملے جو تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ اس ترمیم کے بعد شہریت کا عمل مزید سخت ہو جائے گا۔ حکام کے مطابق دستاویزات کی جانچ اور تصدیق کے عمل کو مضبوط بنایا جائے گا۔ اس سے ملک کی داخلی سلامتی کو بھی مضبوطی ملنے کی امید ہے۔
Published: undefined
شہریت قوانین، 2009 کو 25 فروری 2009 کو نافذ کیا گیا تھا اور اس میں آخری بار 11 مارچ 2024 کو ترمیم کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی شہریت ترمیمی ایکٹ، 2019 (سی اے اے) کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ہندو، سکھ، بدھسٹ، جین، پارسی اور عیسائی طبقے کو راحت فراہم کرنے کا التزام کیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون ان لوگوں کو باوقار زندگی فراہم کرنے کے مقصد سے لایا گیا ہے جو مذہبی استحصال کی وجہ سے ہندوستان آئے تھے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined