
لکھنؤ: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دی گئی عطیات کی رقم کے مالیاتی انتظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ سے متعلق عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ معاملے میں ایسی کوئی غیر معمولی صورت حال موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے معمول کے طریقۂ کار سے ہٹ کر ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے۔
Published: undefined
جسٹس پنکج بھاٹیہ اور جسٹس امیتابھ کمار رائے پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب عرضی گزار موہت اشوک کی جانب سے معاملے کی سنگینی کا حوالہ دیتے ہوئے جلد سماعت کی درخواست کی گئی۔ تاہم عدالت نے کہا کہ اس کے سامنے پہلے ہی بڑی تعداد میں مقدمات زیر التوا ہیں اور اس عرضی کو خصوصی ترجیح دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
Published: undefined
عدالت نے زبانی طور پر یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کا نوٹس لے چکی ہے، اس لیے فوری عدالتی مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ عدالت کے سامنے پیر کے روز فہرست بند 529 نئے مقدمات میں یہ عرضی 392 ویں نمبر پر درج تھی۔
موہت اشوک نے اپنی عرضی میں رام مندر میں موصول ہونے والی عطیات کی رقم کے مبینہ غلط استعمال کی آزادانہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان کے کمپٹرولر و آڈیٹر جنرل سے اس معاملے کا آڈٹ کرانے کے لیے ہدایات جاری کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔
Published: undefined
عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کی گئی نذرانے اور عطیات کی رقم کے مالیاتی انتظام میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ عرضی گزار نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مندر میں موصول ہونے والی رقم کے استعمال اور انتظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی نگرانی میں مناسب اقدامات کیے جائیں۔
ہائی کورٹ نے فی الحال اس معاملے میں فوری سماعت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عرضی کو مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہی سنا جائے گا اور اسے غیر معمولی ترجیح نہیں دی جائے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined