
تصویر آئی اے این ایس
سپریم کورٹ نے اسکولوں میں طالبات کے لیے الگ بیت الخلاء اور سینیٹری پیڈ کا انتظام کیے جانے سے متعلق جمعہ کے روز ایک انتہائی اہم حکم جاری کیا۔ عدالت عظمیٰ نے سبھی ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں میں جنسی بنیاد پر لڑکیوں کے لیے اسکول میں علیحدہ بیت الخلاء کی سہولت دستیاب کرائے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے 3 ماہ میں سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو حکم پر عمل کرنے کی ہدایت دی۔
Published: undefined
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق میں ماہواری صحت کا حق بھی شامل ہے۔ محفوظ، بااثر اور کفایتی ماہواری سے متعلق انتظامات کی ترکیبوں تک رسائی ایک طالبہ کو جنسی و تولیدی صحت کی اعلیٰ سطح تک پہنچنے میں مدد کرتی ہے۔ صحت مند تولیدی زندگی کے حق میں جنسی صحت سے متعلق تعلیم اور جانکاری تک رسائی کا حق بھی شامل ہے۔
Published: undefined
عدالت نے کہا کہ مساوات کا حق یکساں شرائط پر شراکت داری کے حق کے ذریعہ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی مواقع کی برابری یہ یقینی کرتی ہے کہ سبھی کو فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہنر حاصل کرنے کا مناسب موقع ملے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح لفظوں میں کہا کہ یہ فیصلہ صرف نظامِ قانون سے جڑے لوگوں کے لیے نہیں ہے، یہ کلاسز کے لیے بھی ہے، جہاں لڑکیاں مدد مانگنے میں جھجکتی ہیں۔ یہ ان اساتذہ کے لیے ہے جو مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن وسائل کی کمی کے سبب ایسا نہیں کر پاتے۔
Published: undefined
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ ان والدین کے لیے ہے، جنھیں شاید اپنی کاموشی کے اثر کا احساس نہیں ہے، اور سماج کے لیے بھی ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ترقی کا پیمانہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ہم سب سے کمزور لوگوں کی حفاظت کیسے کرتے ہیں۔ ہم ہر اس بچی کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں جو شاید اس لیے اسکول سے غیر حاضر رہنے کو مجبور ہوتی ہے، کیونکہ اس کے جسم کو بوجھ سمجھا جاتا تھا، حالانکہ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ یہ الفاظ عدالتوں اور قانونی تجزیاتی رپورٹس سے بالاتر جا کر سماج کی عام سمجھ تک پہنچنے چاہئیں۔
Published: undefined
عدالت نے سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو یہ یقینی بنانے کے لیے کہا ہے کہ ہر سرکاری یا پرائیویٹ اسکول میں جنس پر مبنی بیت الخلاء اور پانی کی سہولت دستیاب ہو۔ سبھی نئے اسکولوں میں رازداری بھی یقینی بنائی جانی چاہیے، جس میں معذوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔ سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو یہ بھی یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے کہ اسکول میں بیت الخلاء احاطہ میں ’بایو ڈیگریڈیبل‘ سینیٹری نیپکن دستیاب ہوں۔ علاوہ ازیں ماہواری سے متعلق ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کے لیے اضافی یونیفارم اور دیگر ضروری سامان سے مزین ماہواری صفائی مینجمنٹ سنٹر قائم کیا جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined