قومی خبریں

بجٹ اجلاس سے قبل آل پارٹی میٹنگ: سی پی آئی نے کئی مسائل پر شدید تشویش کا کیا اظہار

آل پارٹی میٹنگ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی نمائندگی راجیہ سبھا رکن پی سنتوش کمار نے کی۔ انہوں نے کئی اہم سیاسی، معاشی اور جمہوری مسائل کو اٹھا کر حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔

<div class="paragraphs"><p>آل پارٹی میٹنگ، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@mpa_india</p></div>

آل پارٹی میٹنگ، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @mpa_india

 

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے قبل منگل کو وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی صدارت میں آل پارٹی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی نمائندگی راجیہ سبھا رکن پی سنتوش کمار نے کی۔ انہوں نے کئی اہم سیاسی، معاشی اور جمہوری مسائل کو اٹھا کر حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ سی پی آئی نے کیرالہ کے لیے خصوصی مالی پیکج کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مرکز کے ذریعہ عائد کردہ قرض کی پابندیوں کی وجہ سے ریاست کو رواں مالی سال میں 21000 کروڑ روپے سے زائد کے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ کیرالہ جیسی ریاستوں کو درپیش غیر معمولی مالیاتی بحران کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر مرکزی حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے۔

Published: undefined

ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) پر سی پی آئی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پی سنتوش کمار نے کہا کہ یہ عمل اب ’خصوصی گہرا اخراج‘ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ جمہوریت میں ووٹرس حکمرانوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن یہاں الٹا ہو رہا ہے، جہاں حکمراں ووٹرس کا انتخاب کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن تیزی سے ’خاتمہ کمیشن‘ (ایلیمینیشن کمیشن) بنتا جا رہا ہے۔

Published: undefined

داخلی سلامتی کے معاملے پر پارٹی نے ’آپریشن کگار‘ کی سخت مذمت کی۔ سی پی آئی کا الزام ہے کہ اس آپریشن کے نام پر بے گناہ قبائلیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے اس آپریشن کی مکمل تفصیلات اور موجودہ صورتحال پیش کرے تاکہ شفافیت اور جوابدہی برقرار رہے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے سی پی آئی نے کہا ہے کہ ہندوستان کا موقف مکمل طور پر کمزور ہو گیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز رویے، وینزویلا کی صورتحال یا گرین لینڈ سے متعلق مسائل پر کوئی ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس سے ہندوستان کی آزاد خارجہ پالیسی کی روایت کمزور ہو رہی ہے۔

Published: undefined

پارٹی نے آشا ورکرز کی تنخواہوں میں فوری اضافے کا مطالبہ دہرایا، جیسا کہ پہلے مرکزی وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی تھی۔ منریگا کو فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ سی پی آئی کا کہنا ہے کہ اجرت کی ادائیگی میں تاخیر، کم فنڈز کی فراہمی اور کام کے دنوں میں کٹوتی سے دیہی روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ منریگا زرعی بحران اور بے روزگاری کے وقت میں ایک اہم روزگار منصوبہ ہے، اس لیے اسے وسعت اور مکمل مالی امداد ملنی چاہیے۔

Published: undefined

اس کے علاوہ سی پی آئی نے مزدور مخالف لیبر کوڈ کو واپس لینے، کسان مخالف بیج بل کی مخالفت کرنے اور مرکز کے زیر اہتمام منصوبوں میں مرکز کا حصہ 75:25 کرنے کا مطالبہ کیا، تاکہ ریاست بہتر طریقے سے فلاحی پروگرام چلا سکیں۔ سی پی آئی نے زور دیا کہ جمہوریت، وفاقیت اور عوام کے روزگار کے تحفظ کے لیے بجٹ اجلاس میں ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دی جانی چاہیے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ کل سے شروع ہو رہے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے ’وی بی جی- رام جی‘ قانون اور ایس آئی آر پر بحث کے مطالبے کو حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔ آل پارٹی میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ ان دونوں موضوعات پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار جب کوئی قانون ملک کے سامنے آ جاتا ہے، تو ہمیں اس پر عمل کرنا ہوتا ہے اور ہم ’گیئر ریورس‘ کر کے پیچھے نہیں جا سکتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined