قومی خبریں

اتر پردیش سے آئے لوگ اتر پردیش ہی واپس جائیں گے، 2027 کے بعد لوٹ کر نہیں آئیں گے: اکھلیش یادو

اکھلیش یادو نے دہلی کی ریلی میں بی جے پی پر ووٹ چوری اور انتخابی سازشوں کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ 2027 میں اتر پردیش کے عوام بی جے پی کو ایسی وداعی دیں گے کہ واپسی ممکن نہیں ہوگی

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو</p></div>

اکھلیش یادو

 

نئی دہلی۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی ’ووٹ بچاؤ ریلی‘ سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی عوام کے درمیان انتخابی کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے انتخابی کمیشن کے ذریعے سازشیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کے لوگ جس طرح استقبال کرنا جانتے ہیں، اسی طرح رخصتی بھی اچھی طرح کرنا جانتے ہیں۔ 2027 کے اسمبلی انتخابات میں ایسی وداعی ہوگی کہ اقتدار سے جانے والے دوبارہ واپس نہیں آئیں گے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ جو لوگ اتر پردیش سے آئے تھے، وہ اتر پردیش ہی واپس جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 میں عوام نے تھوڑی سی وداعی کی تھی، لیکن 2027 کے اسمبلی انتخابات میں ایسی وداعی ہوگی کہ واپسی کا راستہ نہیں بچے گا۔

سماجوادی پارٹی سربراہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی مسلسل سازش کر رہی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہ عوام کے درمیان انتخابی مقابلہ جیت نہیں سکتی۔ اسی لیے انتخابی کمیشن کے ذریعے راستہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے ذریعے لاکھوں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ اپوزیشن اس طرح کی کارروائیوں سے ہار ماننے والی نہیں ہے اور اس نے ووٹوں کی چوری پکڑ لی ہے۔

انہوں نے 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سماجوادی پارٹی کی حکومت نہ بننے کی ایک بڑی وجہ ووٹوں کی چوری تھی۔ ان کے مطابق جب انہوں نے انتخابی کمیشن کے سامنے ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کا معاملہ اٹھایا تو انہیں نوٹس بھیج دیا گیا اور پوچھا گیا کہ وہ کس بنیاد پر ووٹ کٹنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

اکھلیش نے کہا کہ اس کے بعد سماجوادی پارٹی کے کارکنوں نے ایسے ووٹروں کی نشاندہی کی جنہوں نے 2019 کے انتخابات میں ووٹ دیا تھا، لیکن 2022 میں ان کے نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں تھے۔ پارٹی نے اس سلسلے میں حلف نامہ بھی جمع کرایا، لیکن انتخابی کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنگال میں جو کچھ ہوا، اس کی ابتدا اتر پردیش کے رام پور سے ہوئی تھی۔ وہاں فورس تعینات کرکے لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا اور گھروں میں جاکر ووٹروں کو دھمکایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیلی بھیت میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔

اکھلیش یادو نے رام مندر کے چندے میں مبینہ چوری کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ رام لیلا میدان بھگوان رام کی لیلا کے لیے جانا جاتا ہے اور صدیوں سے لوگ جانتے ہیں کہ گناہ کرنے والوں کا انجام برا ہوتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے بھگوان رام کے مندر کے چندے میں چوری کی ہے، ان کا اس بار مکمل صفایا ہونا طے ہے۔

سماجوادی پارٹی سربراہ نے صحافیوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر صحافی سچ دکھاتے ہیں تو انہیں پریشان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور انتخابی عمل کو بچانے کے لیے اپوزیشن کی جدوجہد جاری رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔