افغانستان: غذائی بحران اور پوست کی کاشت میں اضافہ
افغانستان میں غربت اور مہنگائی سے غذائی قلت بڑھ رہی ہے، جبکہ بے روزگاری نے کسانوں کو پوست کی غیر قانونی کاشت پر مجبور کر دیا ہے۔ پابندی کے باوجود پوست کی پیداوار پانچ گنا بڑھ گئی ہے

افغانستان کو خوراک کے شدید بحران اور غذائی قلت کا سامنا ہے، جہاں بازاروں میں اشیاء کی دستیابی کے باوجود لاکھوں افراد غربت اور مہنگائی کی وجہ سے انہیں خریدنے سے قاصر ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے ساتھ ساتھ، کاشت پر پابندی کے باوجود افغانستان میں پوست کی پیداوار میں پانچ گنا اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ غریب کسان اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے غیر قانونی طور پر چھوٹی فصلیں کاشت کرنے پر مجبور ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات اور عوامی خدمات کی عدم موجودگی کی وجہ سے خوراک کی عدم دستیابی اور منشیات کی پیداوار میں یہ اضافہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے پیچیدہ مسائل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اور پائیدار بین الاقوامی امداد اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ خاندانوں کو اس تباہ کن صورتحال سے نکالا جا سکے۔ اس کے علاوہ، خواتین کے حقوق پر پابندیاں اور تعلیم و صحت کے شعبوں پر اس کے منفی اثرات نے افغانستان کے طویل مدتی بحالی کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
خوراک: عدم دستیابی مسئلہ نہیں
افغانستان کے گلی کوچوں اور بازاروں کا منظر ایک لرزہ خیز اور گہرے جیو پولیٹیکل تضاد کو پیش کر رہا ہے۔ ایک طرف منڈیوں میں غلے کے ڈھیر ہیں اور دکانیں خوراک سے سجی نظر آتی ہیں، تو دوسری طرف کروڑوں افغان شہری سخت ترین بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جہاں خوراک کی عدم دستیابی کا مسئلہ نہیں، بلکہ شدید معاشی بدحالی کے باعث عوام کی اشیاء خریدنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔
تاہم، اس انسانی صورتحال کا سب سے بڑا اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قانونی معاشی مواقع کے سلب ہو جانے کے بعد، افغان کسانوں کے لیے بقا کا واحد راستہ غیر قانونی افیون کی کاشت بن چکا ہے۔ طالبان حکومت کی سخت ترین پابندی کے باوجود، ملک میں افیون کی پیداوار میں ایک ہی سال کے اندر پانچ گنا خوفناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹس کی روشنی میں، یہ صورتِ حال محض ایک مقامي ہنگامی بحران نہیں بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
قوتِ خرید کا خاتمہ
افغانستان کے غذائی بحران کی سب سے ہولناک سچائی یہ ہے کہ اس کی اصل وجہ خوراک کی کمی نہیں، بلکہ ملک میں جاری شدید معاشی تباہی اور عوام کی قوتِ خرید کا ناپید ہو جانا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے شعبےکی ترجمان اولگا چیریوکونے کابل کے علاوہ جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعد صورتِ حال کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ فوڈ سیکورٹی مانیٹر کے مطابق، اس وقت تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ افغان شہری بحرانی سطح کی بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سے 34 لاکھ افراد قحط کے دہانے پر ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی بھوک کا شکار افراد کی یہ تعداد ایک کروڑ 90 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
بقا کی جنگ اور معاشی مجبوری
قانونی معاشی مواقع کی عدم موجودگی اور بھوک کا یہی بحران کسانوں کو غیر قانونی اقدامات کی طرف دھکیل رہا ہے۔ طالبان حکام نے اپریل 2022 میں مذہبی بنیادوں پر افیون کی کاشت اور تمام منشیات پر مکمل پابندی عائد کی تھی، اور اس سال 22 ہزار ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلوں کو تلف کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ پابندی سے قبل افغانستان دنیا کی 80 فیصد غیر قانونی افیون کا اکیلا سپلائر تھا۔
اقوامِ متحدہ کے منشیات و جرائم کے شعبے (یو این او ڈی سی)کے 2026 کے سروے کے مطابق، افیون کی پیداوار میں ایک بار پھر خوفناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2025 میں افیون کی کاشت کا رقبہ محض 10 ہزار ہیکٹر تھا جو 2026 میں 330 فیصد اضافے کے ساتھ 43 ہزار ہیکٹر سے تجاوز کر گیا ہے۔ اسی طرح افیون کی متوقع پیداوار 300 ٹن سے 400 فیصد یا پانچ گنا بڑھ کر تقریباً 1500 ٹن تک پہنچ چکی ہے۔
اگرچہ یہ اعداد و شمار پابندی سے پہلے کے ادوار (جب کاشت 2 لاکھ 32 ہزار ہیکٹر پر محیط تھی) سے کم ہیں، لیکن یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ غریب کسانوں نے طالبان حکومت کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے حیرت انگیز خفیہ طریقے اپنا لیے ہیں۔ کسان اب گندم اور دیگر اناج کی فصلوں کے اندر چھپا کر، چار دیواری کے پیچھے افیون اگا رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے منشیات و جرائم کے شعبے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، مونیکا جوما کے مطابق، افیون کی کاشت میں چار گنا اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب غریب کسانوں کے پاس اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کا کوئی متبادل نہ ہو تو غیر قانونی کاشت میں کمی کو برقرار رکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔مزید برآں، یہ ساختاتی ربط ثابت کرتا ہے کہ جب قانونی معیشت تباہ ہو جائے اور روزگار ختم ہو جائے، تو بقا کی جنگ تمام تر سرکاری و مذہبی پابندیوں پر غالب آ جاتی ہے۔
خواتین پر پابندیوں کے تباہ کن اثرات
اس بحران کا ایک اور انتہائی تشویشناک پہلو طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر تعلیم اور ملازمت کے حوالے سے عائد کی جانے والی مسلسل اور منظم پابندیاں ہیں۔ یہ محرومی نہ صرف انسانی حقوق کا مسئلہ ہے بلکہ ملک کے غذائی، تعلیمی اور طبی نظام پر اس کے دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کی ایک لرزہ خیز رپورٹ کے مطابق، اگر موجودہ پابندیاں یوں ہی برقرار رہیں تو 2030 تک افغانستان کو 20 ہزار خواتین اساتذہ اور 5400 خاتون ہیلتھ ورکرز کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خاتونِ خانہ کی صحت، طبی سہولیات تک رسائی، اور تعلیم کا براہِ راست تعلق بچوں کی غذائیت اور دیکھ بھال سے ہوتا ہے۔ جب خواتین کے معاشی اور سماجی کردار کو سلب کیا جاتا ہے، تو خاندانوں کی معاشی حالت مزید مفلوج ہو جاتی ہے، جس سے غذائی قلت کے شکار بچوں کی بحالی اور معاشرے کا مستقبل سخت خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
بین الاقوامی نیٹ ورکس کا خطرہ
افیون کی کاشت کی جغرافیائی ساخت اور معاشی حرکیات میں اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ماضی میں افیون کی زیادہ تر کاشت افغانستان کے جنوب مغرب میں ہوتی تھی، لیکن اب یہ کاشت ملک کے 34 میں سے 16 صوبوں تک پھیل چکی ہے، اور کل رقبے کا تین چوتھائی حصہ شمال مشرقی خطے میں منتقل ہو چکا ہے۔
قیمتوں کے لحاظ سے، افیون کی مارکیٹ قیمت اگرچہ پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہے، لیکن پابندی سے پہلے کی قیمت کے مقابلے میں یہ اب بھی پانچ گنا سے زیادہ ہے۔ قیمتوں کا یہ انتہائی بلند معیار کسانوں اور اسمگلروں کے لیے خطرہ مول لینے کا ایک بڑا معاشی محرک بنا ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ منشیات و جرائم شعبے کے مطابق، خطے میں اسمگلروں کے پاس موجود افیون کے ذخائر اب تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جبکہ یورپ میں ہیروئن کی فراہمی میں کمی کے ابتدائی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔ اس عالمی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مونیکا جوما نے ایک اہم پالیسی بیان میں کہا کہ افغانستان کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر عابرِ سرحد (ٹرانس نیشنل) منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی تحقیقات کرنے اور انہیں توڑنے کے لیے عالمی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا باہمی تعاون اشد ضروری ہے۔
معاشی بحالی کی ضرورت
اقوامِ متحدہ کے مختلف ادارے اس وقت افغان عوام کو بچانے کے لیے عملی میدان میں مصروفِ عمل ہیں۔ عالمی خوراک پروگرام ہنگامی راشن کی تقسیم کے ساتھ ساتھ غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے کلینکس اور علاج معالجے کا نظام چلا رہا ہے؛ یونیسیف لڑکیوں اور لڑکوں کی پرائمری تعلیم اور کمیونٹی ایجوکیشن کو سنبھالے ہوئے ہے؛ جبکہ عالمی ادارہ صحت مشرقی افغانستان میں پاکستان اور دیگر علاقوں سے واپس لوٹنے والے مہاجرین اور متاثرہ خاندانوں کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ تاہم، اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا موقف ہے کہ یہ ہنگامی امداد محض وقت گزاری اور فوری جانی نقصان کو روکنے کا ذریعہ ہے، دائمی حل نہیں۔
امدادی اداروں سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ معاشی مواقع اور عوامی خدمات کا مستقل متبادل بنے رہیں۔ زراعت، آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے اور دیہی روزگار میں فوری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ مقامی مارکیٹوں کی بحالی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے مالی معاونت ضروری ہے۔ صحت اور غذائیت کے پائیدار نظام کے ساتھ ساتھ معاشی زندگی میں خواتین کی بلا تعطل شرکت یقینی بنانا ہو گی۔
نئی عالمی منشیات کی وبا کا خطرہ
افغانستان اس وقت ایک ہولناک اور پیچیدہ دوہرے بحران کی گہرائیوں میں گر رہا ہے۔ ایک طرف کروڑوں انسان معاشی تباہی اور قحط کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں، تو دوسری طرف اسی بھوک کے نتیجے میں غریب کسان افیون کی غیر قانونی کاشت پر مجبور ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور عالمی طاقتوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ افغانستان کے معاشی اور بنیادی ڈھانچے کو نظر انداز کرنا محض ایک اخلاقی ناکامی نہیں ، بلکہ ایک شدید جیو پولیٹیکل سیلف ہارم یا خود کو نقصان پہنچانے والا عمل ثابت ہوگا۔ افغانستان کو محض چند بوری اناج کے رحم و کرم پر چھوڑ کر، اقوامِ عالم کو اس کے تباہ حال معاشی ڈھانچے کی بحالی سے آنکھیں چُرانے کی قیمت، ایک نئی عالمی منشیات کی وبا اور پناہ گزینوں کے شدید بحران کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
