’ڈی ایچ ایس‘ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کی تعداد میں 13.5 فیصد کمی درج

’ایس ای وی آئی ایس‘ میں فعال بین الاقوامی طلباء کی مجموعی تعداد 1283240 سے کم ہوکر 1192572 رہ گئی، جو تقریباً7.1  فیصد کی کمی ہے۔ چین سے آنے والے طلباء کی تعداد میں بھی کمی درج کی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p> تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق وہاں مقیم ہندوستانی طلباء کی تعداد ایک سال میں تقریباً 13.5 فیصد کم ہوکر 316893 رہ گئی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ کمی ماسٹرز (پوسٹ گریجویشن) کی سطح پر دیکھی گئی ہے، اس کے باوجود ہندوستان اب بھی امریکہ میں بین الاقوامی طلباء کا سب سے بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر انفارمیشن سسٹم (ایس ای وی آئی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر2026  میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے فعال طلباء کی تعداد 316893 تھی، جو اکتوبر2025  میں366258  تھی۔ یعنی اس دوران طلباء کی تعداد میں 49365  کی کمی درج کی گئی۔

یہ کمی مجموعی گراوٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ ایس ای وی آئی ایس میں فعال بین الاقوامی طلباء کی مجموعی تعداد 1283240 سے کم ہوکر 1192572 رہ گئی، جو تقریباً7.1  فیصد کی کمی ہے۔ چین سے آنے والے طلباء کی تعداد میں بھی کمی درج کی گئی ہے۔ یہ امریکہ میں بین الاقوامی طلباء کا دوسرا سب سے بڑا گروپ ہے اور اس کی تعداد میں تقریباً10.2  فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ یہ تعداد245038  سے کم ہوکر220157  رہ گئی ہے۔ فعال بین الاقوامی طلباء میں ہندوستان کی حصہ داری تقریباً28.5  فیصد سے کم ہوکر26.6  فیصد رہ گئی ہے۔


ہندوستانی طلباء کی تعداد میں یہ کمی بنیادی طور پر ماسٹرز پروگراموں میں دیکھی گئی، جہاں ہندوستانی طلباء کی سب سے بڑی تعداد داخلہ لیتی ہے۔ ماسٹرز پروگراموں میں ہندوستانی طلباء کی تعداد292929  سے کم ہوکر 234034  رہ گئی، جو تقریباً20  فیصد کی کمی ہے۔ اس کے برعکس ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) سطح پر داخلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈی ایچ ایس اعداد و شمار کے مطابق ڈاکٹریٹ سطح پر ہندوستانی طلباء کی تعداد 28609  سے بڑھ کر 41729 ہوگئی۔ اکتوبر2026  میں گریجویشن سطح پر ہندوستانی طلباء کی تعداد36011  تھی، جبکہ ایک سال پہلے یہ تعداد38522  تھی۔ ہندوستانی طلباء کی مجموعی تعداد میں 195341 مرد اور121552  خواتین طلباء شامل تھیں۔

ایس ای وی آئی ایس کے اعداد و شمار میں ان طلباء کو شمار کیا جاتا ہے، جن کا ریکارڈ سسٹم میں فعال ہوتا ہے، ان میں ’آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ‘ (او پی ٹی) والے طلباء بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی ایک مہینے کی صورتحال ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ پورے سال کی مجموعی تعداد۔ طلباء کی تعداد میں یہ کمی ایسے وقت میں آئی ہے، جب امریکہ میں اسٹوڈنٹ ویزا کی جانچ پڑتال سخت کردی گئی ہے، او پی ٹی اور اسٹیم ایکسٹینشن پر نئی فیس عائد کرنے کی تجویز ہے اور قانونی امیگریشن کے راستوں پر بھی سختی بڑھائی جا رہی ہے۔


ہندوستانی نژاد لیڈران کے غیر منافع بخش نیٹ ورک ’انڈیا اسپورا‘ نے30 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے ہندوستانی طلباء کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ اس نے اس رجحان کو موجودہ انتخابی موسم کے دوران جاری ہندوستان مخالف بیان بازی سے جوڑا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے بھی امریکہ جانے والے طلباء کی تعداد میں کمی درج کی گئی ہے۔ نیپال سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد 35273 سے کم ہوکر33992  رہ گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔