قومی خبریں

اکھلیش یادو کا بی جے پی حکومت پر حملہ- ’کسان نظرانداز، بارش و ژالہ باری سے فصلیں تباہ‘

اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ غیر موسمی بارش اور ژالہ باری سے فصلیں تباہ ہوگئیں مگر کسانوں کو نہ معاوضہ ملا نہ راحت۔ حکومت صرف دعوے کر رہی ہے جبکہ کسان شدید مالی بحران کا شکار ہیں

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>

اکھلیش یادو / آئی اے این ایس

 
IANS

اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں کسانوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور حالیہ غیر موسمی بارش، آندھی اور ژالہ باری سے ہونے والے نقصانات کے باوجود انہیں کوئی مناسب راحت فراہم نہیں کی گئی۔

Published: undefined

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر نے اتوار کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ ریاست کے متعدد اضلاع میں فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مئن پوری، قنوج، بارہ بنکی، سیتاپور، ہاتھرس، ایودھیا، میرٹھ، پیلی بھیت، متھرا، ہردوئی، سون بھدر اور شراوستی سمیت کئی علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بارش کی وجہ سے گندم کی فصل بھیگ کر خراب ہوگئی ہے جبکہ کئی جگہوں پر فصلیں گر کر مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ اس بڑے نقصان کے باوجود کسانوں کو ابھی تک نہ تو معاوضہ دیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر راحتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت کے وزراء صرف اعلانات اور ہوائی جائزوں تک محدود ہیں، جبکہ زمینی سطح پر کسانوں کو کوئی حقیقی مدد نہیں مل رہی۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ کسان پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگتِ کاشت سے پریشان ہیں اور اب قدرتی آفات نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف کھاد، بیج اور دیگر زرعی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری جانب فصلوں کی تباہی نے کسانوں کو شدید مالی بحران میں دھکیل دیا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام لگایا کہ کسانوں کی فصلوں کی خریداری مناسب طریقے سے نہیں ہو رہی اور انہیں اپنی پیداوار کا صحیح دام بھی نہیں مل رہا۔ خاص طور پر آلو کے کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں ملا، جس کے باعث انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

Published: undefined

اکھلیش یادو نے منڈی نظام کو لے کر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت نے منڈیوں کے نظام کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ ان کی حکومت کے دور میں نئی منڈیوں کی تعمیر اور بہتری پر کام جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ منڈی نظام کی کمزوری کا براہ راست اثر کسانوں کی آمدنی پر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت صنعت کاروں کے مفاد میں کام کر رہی ہے اور کسانوں کے مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش کا کسان آنے والے 2027 کے اسمبلی انتخابات میں اس رویے کا جواب دے گا اور سماجوادی پارٹی اقتدار میں واپس لائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined