مردم شماری کے دوران سرکاری اساتذہ کو ملا 100 کوئنٹل بھوسا جمع کرنے کا ہدف، ٹیچر یونین نے کہا ’ کل گوبر بھی اٹھوائیں گے؟‘

خاتون ٹیچر کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی کام بچوں کا مستقبل بنانا اور تعلیم دینا ہے۔ اگر وہ گاؤں گاؤں جا کر بھوسا اکٹھا کرنے جیسا کام کریں گی تو گاؤں والوں کی نظر میں اساتذہ کی عزت ختم ہو جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

اترپردیش کے بریلی میں ضلع مجسٹریٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے بنیادی تعلیم افسر(بی ایس اے) نے تمام بلاک ایجوکیشن افسران کو سرکاری اساتذہ سے لازمی طور پر بھوسا عطیہ کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس وقت مردم شماری کے کام میں مصروف اساتذہ کو اب آوارہ مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے ہر اسکول سے 46 کلو بھوسا اور ہر بلاک سے 100 کوئنٹل بھوسے کا بندوبست کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے اس حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں اور اساتذہ کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ تعلیم کے اس عجیب و غریب فرمان کے بعد نواب گنج، بھوجی پورہ اور بھوٹا سمیت کئی علاقوں میں ٹیچر لیڈروں اور پرنسپلوں نے کھل کر اس نظام کی مخالفت کی ہے۔

وہیں اب بریلی بھوسا معاملہ تنازع کے بعد بی ایس اے کی صفائی آئی ہے اور انہوں نے اپنے حکم میں ترمیم کی ہے۔ ترمیم شدہ حکم نامے کے مطابق بے سہارا اور بے سہارا مویشیوں کے لیے بھوسے کا عطیہ مکمل طور پر رضاکارانہ ہوگا۔ اس میں کسی بھی ملازم، ٹیچر یا دوسرے فرد پر کسی طرح کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔ بریلی کے محکمہ بنیادی تعلیم کی طرف سے لیٹر جاری جسٹب جپ نواب گنج، بھوجی پورہ اور بھوٹا علاقوں کے بلاک ایجوکیشن آفیسرز نے اپنے اپنے علاقوں کے اساتذہ کو اسے نافذ کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔ اس کے تحت ہر ٹیچر کو 46 کلو گرام بھوسا جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ اس حکم کی کاپیاں اب سوشل میڈیا پر تیزی وائرل ہو رہی ہیں، جس سے محکمہ تعلیم کے افسران کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اب انہیں گاؤں گاؤں جا کر عطیہ مانگنا پڑے گا۔


’آج تک‘ کی خبر کے مطابق متنازع حکم سے ناراض ٹیچر لیڈروں اور ہیڈ ماسٹروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ٹیچرس یونین کے ریاستی نائب صدر بھانو پرتاپ سنگھ نے اسے اساتذہ کی توہین اور ان کی تنزلی قرار دیا۔ دریں اثناء ہیڈ ماسٹر وریندر کمار اور ہیمنت کمار کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے دوران اس طرح کا ناقابل عمل حکم تھوپنا سراسر غلط ہے۔ اساتذہ نے طنزکستے ہوئے کہا کہ ایک ہاتھ میں سرکاری کتابیں اور دوسرے ہاتھ میں بھوسے کی بوری لے کر چلنا توہین آمیز ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں ان سے گوبر اٹوانے یا نالی صاف کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔

اس پورے تنازع پر ضلع مجسٹریٹ اویناش سنگھ نے ایک بیان جاری کرکے صورتحال واضح کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نوٹس میں کارروائی کی کوئی بات نہیں ہے اور وہ اس معاملے کو دیکھ  رہے ہیں۔ ڈی ایم نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آوارہ مویشیوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے پورے ضلع کے باشندوں کو آگے آنا چاہیے اور اسے ایک مذہبی اور ذاتی کام کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے اسکولوں سے مویشیوں کو گود لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہونہار طلباء کو اسکوٹی یا ٹی بی کے مریضوں کو گود لیا جاتا ہے، اسی طرح مویشیوں کی فلاح و بہبود کے لیے رضا کارانہ عطیات کرنا چاہئے۔


قابل ذکر ہے کہ بریلی میں اساتذہ سے بھوسا جمع کرانے کے انتظامی حکم پر خواتین اساتذہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ خاتون ٹیچر ریتا بترا کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی کام بچوں کا مستقبل بنانا اور تعلیم دینا ہے۔ اگر وہ گاؤں گاؤں جا کر بھوسا اکٹھا کرنے جیسا کام کریں گی تو گاؤں والوں کی نظر میں اساتذہ کی عزت اور وقار پوری طرح ختم ہو جائے گا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔