قومی خبریں

دہلی کی ہوا 78 دن سے خراب، موسم کا اثر ہٹانے پر بھی پی ایم 10 گزشتہ سال سے زیادہ: اجے ماکن

دہلی میں موسم کا اثر الگ کرنے کے بعد بھی پی ایم 10 کی سطح مسلسل 78 دن سے گزشتہ سال سے زیادہ خراب ہے۔ آنند وہار میں اے کیو آئی 260 ریکارڈ ہوا، جبکہ 13.6 لاکھ افراد خراب ہوا والے مانیٹروں کے قریب ہیں

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / تصویر: قومی آواز، ویپن</p></div>

اجے ماکن / تصویر: قومی آواز، ویپن

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے حوالے سے جاری اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی مسلسل 78 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ 30 مئی سے جاری ہے اور دستیاب اعداد و شمار میں ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب موسم کا اثر ہٹانے کے بعد پی ایم 10 گزشتہ سال کی سطح سے نیچے گیا ہو۔

اجے ماکن نے اپنی ایکس پوسٹ میں بتایا کہ اس سال اب تک 227 دنوں کے اعداد و شمار دستیاب ہیں، جن میں 154 دن دہلی کی پی ایم 10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ مسلسل 78 دن کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں پی ایم 10 کی اوسط اضافی مقدار 14.1 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر رہی۔

انہوں نے کہا کہ محض بارش یا موسم کو دہلی کی فضائی آلودگی کی صورت حال کی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ موسم کے اثر کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے لیے ’ڈی ویدرنگ‘ کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے، جس میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت کے اثرات کو حساب سے نکال کر شہر کی اپنی آلودگی کی صورت حال دیکھی جاتی ہے۔

اجے ماکن کے مطابق تیز ہوا اور بارش آلودگی کو منتشر یا کم کرسکتی ہے، جبکہ پرسکون موسم آلودگی کو فضا میں برقرار رکھتا ہے۔ اسی لیے موسم کے اثرات الگ کرنے کے بعد سامنے آنے والا رجحان زیادہ اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہلی میں پی ایم 10 کی مسلسل 78 دن کی خراب صورت حال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسئلہ محض موسمی اتار چڑھاؤ کا نہیں بلکہ آلودگی کے مستقل ذرائع کا ہے۔

تازہ اعداد و شمار میں آنند وہار کی صورت حال کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ اجے ماکن کے مطابق وہاں آج صبح اے کیو آئی 260 ریکارڈ کیا گیا، جو سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے پیمانے پر ’خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ سی پی سی بی کے مطابق اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آنند وہار کے متعلقہ مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 13 لاکھ 63 ہزار 291 افراد رہتے ہیں۔ تاہم اجے ماکن کی رپورٹ میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی ہوا میں سانس لے رہا ہے۔

اجے ماکن کے مطابق پوری دہلی میں تقریباً 13.6 لاکھ افراد ایسے مانیٹروں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بھی بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فضائی آلودگی کے روزانہ دستیاب اعداد و شمار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور مسلسل ریکارڈ ہونے والے اس رجحان پر جواب دہی ضروری ہے۔

رپورٹ میں گزشتہ سال سے موازنہ کے لیے 9 اگست سے 23 اگست 2025 کے اوسط اور یکساں مانیٹرنگ اسٹیشنوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ بنیادی اعداد و شمار سی پی سی بی سے لیے گئے ہیں، جبکہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے لیے یورپی موسمیاتی اعداد و شمار استعمال کیے گئے ہیں۔

اجے ماکن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی میں پی ایم 10 کے ذرائع، خصوصاً تعمیراتی اور سڑکوں کی دھول، پر فوری کارروائی کی جائے، خراب ہوا والے علاقوں میں مقامی سطح پر اقدامات کیے جائیں اور ہر مانیٹر کا حقیقی وقت کا اے کیو آئی عوام کے سامنے دستیاب رکھا جائے۔ انہوں نے اس پوری مہم کے دوران یہ مؤقف بھی دہرایا ہے کہ سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔