کیا انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے؟...ایف اے مجیب

انسانیت محبت، انصاف اور وقار کی عظیم قدر ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان اخلاقی اصولوں کی حتمی بنیاد کیا ہے۔ مذہب اور انسانیت باہم متضاد نہیں بلکہ خدا اور اخلاقی جواب دہی کے تناظر میں ایک دوسرے سے جڑے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

’میرا مذہب انسانیت ہے۔‘ آج یہ جملہ مذہب سے بیزاری رکھنے والے بہت سے لوگوں کے لیے ایک مکمل نظریہ زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں محبت ہے، رواداری ہے، انصاف ہے اور انسان کو انسان سمجھنے کا جذبہ ہے۔ بظاہر اس تصور سے اختلاف کی کوئی وجہ نہیں۔ لیکن کسی خوب صورت خیال کو آخری سچ مان لینے سے پہلے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ کس بنیاد پر قائم ہے۔ اگر انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے تو پھر سوال صرف یہ نہیں کہ انسانیت کیا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسانیت کے اخلاقی اصولوں کی بنیاد کیا ہے؟

انسانیت سے مراد اگر انسان کی عزت، جان، آزادی، انصاف، سچائی، رحم اور کمزور کے حقوق کا تحفظ ہے تو ان میں سے کسی قدر سے مذہب کو اصولی اختلاف نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان اقدار کو درست کیوں سمجھتے ہیں۔ سچائی اچھی کیوں ہے اور خیانت بری کیوں؟ ظلم ہر حال میں غلط کیوں ہے؟ بے گناہ کو قتل کرنا اکثریت کی پسند سے بھی جائز کیوں نہیں ہو سکتا؟ اگر ان اصولوں کا سرچشمہ صرف انسان ہے تو پھر انسان ہی انہیں بدلنے کا اختیار بھی رکھتا ہوگا۔ لیکن اگر ظلم اس وقت بھی ظلم تھا جب کسی معاشرے میں اسے جائز سمجھا جاتا تھا، تو پھر حق و باطل کا کوئی ایسا معیار ضرور ہے جو انسانی رائے سے بلند ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے: کسی معاشرے کا کسی عمل کو درست سمجھنا اور اس عمل کا حقیقتاً درست ہونا ایک چیز نہیں۔ تاریخ میں غلامی، نسلی امتیاز اور کمزور انسان کے استحصال کو مختلف معاشروں میں جائز یا معمول سمجھا گیا۔ آج ہم انہیں غلط کہتے ہیں۔ اگر معاشرہ ہی اخلاق کا آخری معیار ہوتا تو ماضی کے ان اعمال کو اس وقت غلط کہنا ممکن نہ ہوتا۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ اخلاقی اصول انسانی پسند سے بلند ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ ان اصولوں کی بنیاد کہاں ہے؟

یہی سوال خدا کے تصور کو محض مذہبی عقیدے سے اٹھا کر ایک سنجیدہ فلسفیانہ مسئلہ بنا دیتا ہے۔ اگر اخلاق واقعی انسانی رائے سے آزاد حقیقت ہے تو اس کی آخری بنیاد بھی کسی ایسی حقیقت میں ہونی چاہیے جو انسانی خواہشات سے آزاد ہو۔ خدا کا تصور اسی امکان کی ایک معقول توضیح پیش کرتا ہے کہ اخلاقی قانون کے پیچھے ایک برتر حقیقت موجود ہے، جس کے سامنے انسان بھی جواب دہ ہے۔


یہ دلیل خدا کے وجود کو چند جملوں میں ثابت کرنے کا دعویٰ نہیں کرتی، لیکن کم از کم اتنا ضرور واضح کرتی ہے کہ خدا کا سوال غیر عقلی یا غیر سائنسی سوال نہیں۔ کائنات کے وجود کا سوال بھی اسی طرح بنیادی ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کے اندر مادہ، توانائی اور طبیعی قوانین کس طرح کام کرتے ہیں، مگر ’کائنات آخر موجود کیوں ہے؟‘ ایک مختلف سوال ہے۔ اسی طرح انسانی شعور، اخلاقی احساس اور مقصد کی جستجو کو صرف حیاتیاتی بقا تک محدود کر دینا بھی پوری انسانی حقیقت کی مکمل توضیح نہیں۔

انسان صرف زندہ رہنے والی مخلوق نہیں؛ وہ اپنے وجود پر غور کرتا ہے۔ وہ اپنے مفاد کے خلاف کسی دوسرے کے لیے قربانی دے سکتا ہے، کسی مظلوم کے حق میں کھڑا ہوسکتا ہے اور ایسے شخص کے لیے بھی انصاف چاہ سکتا ہے جس سے اسے کوئی فائدہ نہ ہو۔ وہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ زندگی صرف گزارنے کا نام ہے یا اس کا کوئی مقصد بھی ہے۔ یہی شعور انسان کو محض حیاتیاتی وجود سے ایک اخلاقی وجود بناتا ہے، اور یہی سوال اسے اپنے وجود کی آخری بنیاد تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

یہاں ایک عام اعتراض سامنے آتا ہے کہ خدا اور مذہب خود انسان کی ایجاد ہیں۔ مختلف تہذیبوں میں خدا کے مختلف تصورات اور مختلف مذاہب اس کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن کسی حقیقت کے بارے میں مختلف تصورات کا ہونا اس حقیقت کے عدمِ وجود کی دلیل نہیں۔ انسان نے کائنات، بیماری اور خود اپنے وجود کے بارے میں بھی مختلف نظریات قائم کیے، جن میں سے بہت سے غلط ثابت ہوئے۔ غلط تصور کا وجود اس حقیقت کو ختم نہیں کرتا جس کے بارے میں تصور قائم کیا گیا تھا۔ لہٰذا مختلف مذہبی تصورات یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ انسان خدا کو مختلف انداز میں سمجھتا رہا، لیکن یہ خود بخود ثابت نہیں کرتے کہ خدا موجود نہیں۔

مذہب پر دوسرا بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس کے نام پر جنگیں اور خونریزی ہوئی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں ہونا چاہیے۔ مذہبی شناخت کو اقتدار، سیاست اور تعصب کے لیے استعمال کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ظلم بھی ہوا۔ لیکن کسی نظریے کے نام پر انسان کا کیا ہوا عمل اور خود اس نظریے کی بنیادی تعلیم ایک چیز نہیں۔ سیاست کے نام پر جنگیں ہوئیں تو سیاست کا ہر اصول باطل نہیں ہوجاتا، قانون کے نام پر ناانصافی ہوئی تو قانون کا تصور ختم نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح مذہب کے نام پر ہونے والے ظلم کو مذہب کی مکمل تعریف قرار دینا بھی علمی انصاف نہیں۔ مذہب کو اس کی اصل تعلیمات سے پرکھنا چاہیے، نہ کہ اس کے ہر دعویدار کے عمل سے۔


اسلامی تصور میں مذہب اور انسانیت ایک دوسرے کے مقابل نہیں۔ خدا سے تعلق صرف عبادت کے چند اعمال کا نام نہیں، بلکہ انسان کو ایک ذمہ دار اخلاقی وجود سمجھنے کا نام بھی ہے۔ سچائی، عدل، امانت، رحم، انسانی جان کی حرمت، کمزوروں کے حقوق اور معاشرتی ذمہ داری اس تصور کے بنیادی اجزا ہیں۔ انسان کی قدر اس کی دولت، طاقت، نسل یا اکثریت سے نہیں بلکہ اس کے انسانی وجود سے وابستہ ہے۔ اس اعتبار سے مذہب انسانیت کو محدود نہیں کرتا بلکہ اسے ایک ایسی بنیاد فراہم کرتا ہے جو انسانی مفاد سے بلند ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ خدا کی بنیادی ہدایت کسی ایک قوم یا ایک تاریخی دور تک محدود نہیں رہی۔ مختلف زمانوں میں مختلف پیغمبر آئے، مگر بنیادی دعوت ایک ہی رہی: خالق کو پہچاننا، اس کے سامنے جواب دہ ہونا، ظلم سے بچنا، عدل قائم کرنا اور زندگی کو اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ گزارنا۔ زمانے اور حالات کے مطابق عملی احکام میں فرق ہوسکتا تھا، لیکن بنیادی توحیدی اور اخلاقی پیغام ایک ہی رہا۔ اس طرح مذہب کی تاریخ کو مختلف بنیادی سچائیوں کی تاریخ کے بجائے ایک مسلسل خدائی رہنمائی کے طور پر بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

اس زاویے سے ’انسانیت ہی میرا مذہب ہے‘ کا جملہ ایک نئے مفہوم میں سامنے آتا ہے۔ اگر انسانیت سے مراد محبت، انصاف، سچائی اور انسانی عزت ہے تو مذہب اس کے خلاف نہیں؛ بلکہ وہ پوچھتا ہے کہ ان اقدار کو حتمی حیثیت کس بنیاد پر حاصل ہے۔ انسانیت کہتی ہے کہ کمزور پر ظلم نہیں ہونا چاہیے، مذہب اسے ذمہ داری بناتا ہے۔ انسانیت حقوق کی بات کرتی ہے، مذہب حقوق کے ساتھ فرائض بھی یاد دلاتا ہے۔ انسانیت انصاف چاہتی ہے، مذہب یہ تصور دیتا ہے کہ آخری انصاف انسانی عدالتوں سے بھی آگے ہوسکتا ہے۔

اس لیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مذہب ماننے والا انسانیت پسند ہوسکتا ہے یا نہیں، اور نہ یہ کہ مذہب نہ ماننے والا اچھا انسان نہیں ہوسکتا۔ دونوں دعوے حقیقت کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتے ہیں۔ ایک غیر مذہبی شخص بھی نہایت اچھا انسان ہوسکتا ہے اور مذہب کا دعویدار بھی اپنے عمل سے مذہب کی تعلیم کے خلاف جاسکتا ہے۔ اصل سوال اس سے کہیں بنیادی ہے: انسان جس اخلاق کو درست سمجھتا ہے، اس کی آخری بنیاد کیا ہے؟


اگر انسان ہی آخری معیار ہے تو انسان کو معیار بنانے کا معیار کیا ہے؟ اگر اخلاق انسانی پسند سے بلند ہیں تو ان کی بنیاد کہاں ہے؟ اگر کائنات محض ایک بے مقصد واقعہ ہے تو انسانی زندگی میں مقصد، ذمہ داری اور اخلاقی قدر کی آخری حیثیت کیا ہے؟ اور اگر انسان خود آخری حقیقت نہیں تو اس سے بلند کسی حقیقت کے امکان کو صرف اس لیے کیوں رد کیا جائے کہ وہ مذہبی تصور سے وابستہ ہے؟

شاید ’انسانیت‘ اور ’مذہب‘ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا اصل مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسانیت خود کس بنیاد پر قائم ہے۔ انسانیت ایک عظیم قدر ہوسکتی ہے، لیکن کوئی بھی قدر اپنی آخری بنیاد کے بغیر حتمی معیار نہیں بن سکتی۔ اگر اخلاق صرف انسانی پسند ہیں تو وہ وقت اور حالات کے ساتھ بدل سکتے ہیں؛ لیکن اگر اخلاق کسی ایسی حقیقت سے وابستہ ہیں جو انسان سے بلند ہے تو پھر انسان خود بھی ایک بڑے اخلاقی نظام کے سامنے جواب دہ ہے۔

شاید خدا کی تلاش بھی کسی مناظرے سے شروع نہیں ہوتی۔ وہ اس لمحے شروع ہوتی ہے جب انسان دوسروں کے عقائد پر سوال اٹھانے کے بجائے اپنے یقین کی بنیاد کو پرکھتا ہے اور خود سے پوچھتا ہے کہ جن اقدار کو میں زندگی کا معیار سمجھتا ہوں، ان کی آخری بنیاد کیا ہے؟

اور شاید یہی اس پورے سوال کا سب سے اہم پہلو ہے:

انسانیت ہمیں انسان کی قدر تک پہنچاتی ہے؛ لیکن انسان کی قدر کی آخری بنیاد تلاش کرتے ہوئے انسان کو اپنے سے آگے بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانیت کا سوال، خدا کے سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔