
اجے ماکن / تصویر: قومی آواز، ویپن
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور پارٹی کے قومی خزانچی اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق تازہ تجزیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمی اثرات کو مکمل طور پر الگ کرنے کے باوجود شہر میں حقیقی فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل زیادہ ہے۔ ان کے مطابق پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں مسلسل 62 دن سے بلند ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی آلودگی میں اضافہ صرف موسمی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔
اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تجزیہ 30 جولائی صبح 10 بجے سے 31 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ اس کا موازنہ گزشتہ سال 24 جولائی سے 7 اگست 2025 کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا تاکہ ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ سے نتائج متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے فضائی معیار اشاریے کے مطابق دہلی کا اوسط اے کیو آئی 89 ریکارڈ کیا گیا، جو اطمینان بخش زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی اے کیو آئی گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 پوائنٹس زیادہ رہتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بظاہر نظر آنے والی بہتری موسمی حالات کی وجہ سے ہے، نہ کہ حکومتی اقدامات کے باعث۔
اجے ماکن نے بتایا کہ اس بار فضائی اختلاط کی بلندی گزشتہ سال کے 482.8 میٹر کے مقابلے میں بڑھ کر 748.8 میٹر ہو گئی۔ ان کے مطابق فضائی اختلاط کی زیادہ بلندی کے باعث آلودگی کے ذرات زیادہ پھیل گئے، جس سے ہوا نسبتاً صاف دکھائی دی، لیکن موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد اصل آلودگی گزشتہ سال سے زیادہ رہی۔
انہوں نے کہا کہ موسمی اثرات کو ریاضیاتی طریقے سے الگ کرنے پر دہلی کے تمام 30 متعلقہ فضائی نگرانی مراکز گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ آلودہ پائے گئے اور اوسطاً اے کیو آئی میں چھ پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق شہر کا کوئی بھی نگرانی مرکز اس رجحان سے محفوظ نہیں رہا۔
اجے ماکن نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پی ایم 10 کی حقیقی سطح مسلسل 62 دن سے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے اور مئی سے اب تک ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب یہ گزشتہ سال کی سطح سے نیچے ریکارڈ کی گئی ہو۔ ان کے مطابق موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی یہ فرق برقرار رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہلی میں فضائی آلودگی کا مسئلہ مستقل نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موسمی اثرات الگ کرنے پر پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں آٹھ فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی، جسے انہوں نے حکومتی پالیسیوں کی ناکامی قرار دیا۔ ان کے مطابق وزیرپور کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد اے کیو آئی 136 اور پی ایم 10 کی سطح 152.4 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے 3.4 گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرپور میں موسمی اثرات سے آزاد فضائی معیار گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 پوائنٹس مزید خراب ہوا ہے۔
اجے ماکن نے بتایا کہ دہلی کی گنجان آبادی والے علاقوں کا اوسط اے کیو آئی 97 ریکارڈ کیا گیا، جو شہر کے مجموعی اوسط 89 سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی دھول، سڑکوں کی گرد، صنعتوں، گاڑیوں کے اخراج اور حیاتیاتی ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے ذرائع پر فوری سخت کارروائی کی جائے، وزیرپور میں مقامی سطح پر اقدامات اور صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کے معیارات کے مطابق فضائی معیار کے اہداف مزید سخت کیے جائیں۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، ’’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔