صحت مند بینک کا مطلب صحت مند گھریلو معیشت قطعی نہیں... اجیت راناڈے

مارچ 2024 سے سونے کے قرضوں میں سالانہ مجموعی شرح نمو 42.4 فیصد رہی ہے، جو مجموعی غیر رہائشی خوردہ قرض کی رفتار سے تقریباً دو گنی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، بشکریہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)</p></div>
i

’ریزرو بینک آف انڈیا‘ (آر بی آئی) کی تازہ ترین مالی استحکام رپورٹ بینکوں اور غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں کی صحت کے بارے میں اطمینان بخش تصویر پیش کرتی ہے۔ لیکن ان کے خوردہ صارفین کی مالی صحت کے بارے میں یہ رپورٹ اتنی اطمینان بخش نہیں ہے۔ ستمبر 2025 تک ہندوستان کا گھریلو قرض جی ڈی پی کے 45.5 فیصد تک پہنچ چکا تھا، جو اس کی سابقہ بلند ترین سطح کے قریب تھا، اور دسمبر 2025 تک بڑھ کر 47.8 فیصد کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ بین الاقوامی معیار کے لحاظ سے یہ غیر معمولی طور پر زیادہ نہ بھی ہو، لیکن سرخیوں کے نیچے موجود تفصیلات میں تناؤ کے آثار موجود ہیں، جن کا انکشاف قرضوں کے مقصد، قرض لینے والوں کی نوعیت اور قرض حاصل کرنے کے لیے ان کی جانب سے رہن (گروی) رکھی جانے والی چیزوں سے ہوتا ہے۔

غیر رہائشی خوردہ (ریٹیل) قرض اب گھریلو قرض کا 58.4 فیصد ہے۔ گھریلو قرض کا تقریباً نصف حصہ استعمال کی خاطر لیے گئے قرض کے طور پر درجہ بند ہے، جو اثاثہ سازی یا پیداواری سرگرمی سے مختلف ہے۔ ہاؤسنگ لون ایک اثاثہ بناتا ہے، جبکہ کاروباری قرض آمدنی کا ایک ذریعہ پیدا کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ تعلیمی قرض بھی مستقبل کی آمدنی پیدا کرتا ہے۔ لیکن راشن یا طبی اخراجات یا پہلے لیے گئے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال ہونے والا ذاتی قرض مذکورہ بالا میں سے کچھ بھی نہیں کرتا۔


تناؤ کی تقسیم اس سے بھی کچھ زیادہ انکشاف کرتی ہے۔ آر بی آئی کی 10 بڑے بینکوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق، جس میں اس طرح کی قرض دہی کا تقریباً 90 فیصد حصہ شامل ہے، جن لوگوں کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپے سے کم ہے، وہ قرضوں کی فراہمی کے تقریباً تین چوتھائی حصے کے ذمہ دار تھے۔ دسمبر 2025 میں نئے غیر فعال قرضوں کا 78 فیصد بھی انہی کے حصے میں آیا۔ یہ گھریلو قرض کے بحران کا پیش خیمہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کارپوریٹ قرض اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر این پی اے کا تناسب کافی کم ہے۔ لیکن این پی اے کے کم تناسب میں اس حقیقت کو نہیں چھپانا چاہیے کہ باقی ماندہ تناؤ بڑی حد تک انہی لوگوں میں مرکوز ہے جن میں اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت ہے۔

مائیکرو فائنانس کریڈٹ میں اس سال جنوری تک مسلسل 7 سہ ماہیوں تک کمی آئی۔ قرض لینے والوں کی تعداد میں مزید 22.7 لاکھ کی کمی ہوئی۔ مائیکرو فائنانس قرض میں کمی اس لیے نہیں آئی کہ غریب گھرانوں کو قرض کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ ریگولیٹری کارروائی کے نتیجے میں ہوئی۔ تیزی سے قرض دینے، ایک سے زیادہ قرض لینے اور بڑھتے ہوئے قرض نادہندگی کے ایک مرحلے کی وجہ سے مائیکرو فائنانس صنعت نے اپنے لیے حفاظتی اصول نافذ کیے۔ بالآخر ایک قرض لینے والے کو مائیکرو فائنانس قرض دینے والے اداروں کی قابل اجازت تعداد گھٹا کر 3 کر دی گئی۔ مائیکرو فائنانس اور غیر محفوظ خوردہ قرض کی مجموعی حد 2 لاکھ روپے مقرر کر دی گئی اور ایسے قرض لینے والوں کو قرض دینا ممنوع قرار دیا گیا جن کی ادائیگیاں 60 دن سے زیادہ عرصے سے واجب الادا ہوں۔ بینکوں نے بھی اپنے مائیکرو فائنانس پورٹ فولیو میں نمایاں کمی کی۔ مائیکرو فائنانس کے لیے یہ دو انتہائی مشکل سال تھے۔


چنانچہ قرض کی طلب سونے کے قرضوں کی طرف منتقل ہو گئی۔ مارچ 2024 سے سونے کے قرضوں میں سالانہ مجموعی شرح نمو 42.4 فیصد رہی ہے، جو مجموعی غیر رہائشی خوردہ قرض کی رفتار سے تقریباً دو گنی ہے۔ آر بی آئی نے پایا ہے کہ اس اضافے کا بڑا حصہ موجودہ صارفین کی جانب سے سونے کی بلند قیمتوں کا فائدہ اٹھا کر زیادہ بڑے قرض حاصل کرنے اور سابقہ قرض کو آگے بڑھانے سے آیا ہے۔ آر بی آئی 2.5 لاکھ روپے تک کے استعمال کے قرضوں کے لیے قرض سے قدر کا تناسب (ایل ٹی وی) 85 فیصد کی اجازت دیتا ہے۔ چھوٹے قرضوں کے لیے یہ زیادہ حد انتہائی غریب لوگوں کے لیے قرض تک رسائی بہتر بنانے کے مقصد سے مقرر کی گئی تھی۔ لیکن 85 فیصد ایل ٹی وی سونے کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں تحفظ کا معمولی سا مارجن چھوڑتا ہے۔ آر بی آئی نے پہلے ہی سونے کی قدر کے تعین، نگرانی، نیلامی اور ایل ٹی وی کے اصولوں کی پابندی میں بے ضابطگیاں پائی تھیں، جس کے نتیجے میں مزید سخت ہدایات جاری کی گئیں۔

رہن رکھی ہوئی ضمانت کی وجہ سے سونے کا قرض غیر محفوظ مائیکرو فائنانس یا ذاتی قرض کے مقابلے میں قرض دینے والے کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ یہ خاندان کے لیے بھی زیادہ محفوظ ہو۔ قرض کی ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں قرض دینے والا زیورات کی نیلامی کر سکتا ہے۔ اس طرح بینکاری نظام بہتر اثاثہ معیار رپورٹ کر سکتا ہے کیونکہ خطرہ قرض لینے والے کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ سونا اکثر خاندان کا آخری ہنگامی ذخیرہ ہوتا ہے۔ پہلے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے اسے بار بار نقد میں تبدیل کرنا مالیاتی گہرائی نہیں ہے۔ یہ رسمی قرض کے لباس میں مالی پریشانی ہو سکتی ہے۔ یہ اکثر حالات سے نمٹنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔


شواہد واضح طور پر غیر محفوظ ذاتی قرضوں کی جگہ سونے کے قرضوں کے کچھ حد تک استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ مائیکرو فائنانس قرضوں کی جگہ بھی کسی حد تک سونے کے قرض لے رہے ہوں۔ قرض واجبات ہیں، جبکہ بچت اثاثے ہیں۔ مجموعی قومی قابل تصرف آمدنی کے تناسب سے خالص گھریلو مالی بچت 23-2022 میں کم ہو کر 5.2 فیصد رہ گئی تھی، جو کئی دہائیوں کی کم ترین سطح تھی۔ اب یہ 25-2024 میں بڑھ کر 7 فیصد ہو گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ نئی مالی ذمہ داریوں میں کمی ہے۔ مجموعی مالی بچت 11.8 فیصد ہے۔

قرض لینے میں تیزی سے اضافہ خالص مالی بچت کو کم کر رہا ہے۔ 11 فیصد سے 5.2 فیصد تک کی سابقہ گراوٹ کورونا وبا کے بعد کی اصلاح تھی اور مجموعی طور پر یہ غربت میں اضافے کی علامت نہیں تھی۔ لیکن اب یہ واضح ہے کہ کم آمدنی والے قرض لینے والے اخراجات یا دوبارہ مالیاتی بندوبست کیے گئے پرانے قرض کی ایک قسط ادا کرنے کے لیے تیزی سے نئے قرض استعمال کر رہے ہیں۔


کیا خواتین کو نقد رقم کی منتقلی کم بچت کا باعث بنتی ہے؟ یہ منتقلی 15 ریاستوں میں 12 کروڑ خواتین تک پہنچتی ہے۔ منتقلی سے گھرانے کی قابل تصرف آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے، فلاح و بہبود اور مالی شمولیت بہتر ہوتی ہے۔ منتقلی عموماً صارفیت (خوراک، صحت کی دیکھ بھال یا بچوں کی ضروریات) پر خرچ ہوتی ہے۔ یہ اتنی ہی آسانی سے زیادہ خرچ والے قرض پر انحصار کو کم کر سکتی ہے۔ لیکن اس بات کا امکان کم ہے کہ کم آمدنی والے گھرانوں کی خالص بچت میں کمی کی ذمہ دار یہ منتقلیاں ہیں۔

ابھرتے ہوئے معاشی خطرے کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ قرض سے مالی اعانت حاصل کرنے والی صارفیت آج طلب کو سہارا دیتی ہے، لیکن قرض کی ادائیگی کل کی صارفیت کو کم کرتی ہے۔ مالی بچت میں کمی سے سرمایہ کاری، بینک ڈپازٹس اور مالی خسارے کی فنڈنگ کے لیے دستیاب ملکی وسائل کا حجم کم ہو جاتا ہے۔ سونے کی قیمتوں میں اصلاح ایک ہی وقت میں ضمانت کو کمزور کر سکتی ہے اور ان قرض لینے والوں کو بے نقاب کر سکتی ہے جنہوں نے بار بار اپنے قرضوں کی ازسر نو مالی اعانت کی ہے۔ چونکہ تناؤ کم آمدنی والے گھرانوں میں مرکوز ہے، اس لیے یہ عدم مساوات کے اثرات کو بھی وسیع کر سکتا ہے۔


اس کا حل کمزور گھرانوں کو رسمی قرض سے باہر کرنا نہیں ہے۔ مناسب ضابطہ کاری، فعال کریڈٹ بیوروز جو قرض لینے والے کی مجموعی قرض داری کے بارے میں حقیقی وقت کی معلومات فراہم کریں، اور قرض دہندگان کی جانب سے مائیکرو فائنانس، ذاتی اور سونے کے قرضوں میں ادائیگی کی صلاحیت کا جائزہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سونے کے قرضوں کی بار بار تجدید کو محدود کیا جانا چاہیے۔ مالی مشکلات کا شکار قرض لینے والوں کو قابل اعتماد مشورہ اور قرض کی تنظیم نو کے اختیارات کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ تمام اقدامات صرف علامات کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً قرض معافی بھی پائیدار حل نہیں ہے۔ یہ بوجھ ٹیکس دہندگان پر منتقل کرتی ہے، قرض کی واپسی کے نظم و ضبط کو کمزور کرتی ہے اور گھرانوں کی آمدنی کی بنیادی کمزوری کو دور کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتی۔

گھریلو قرض کے حد سے زیادہ بوجھ سے نجات بڑی حد تک مالیاتی اور قرض پالیسی کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اس کے لیے حقیقی اجرتوں میں تیز تر اضافہ، زیادہ محفوظ روزگار، صحت اور تعلیم پر جیب سے ہونے والے اخراجات میں کمی اور اچانک آمدنی کے جھٹکوں سے مضبوط تحفظ کی ضرورت ہے۔ قرض آمدنی اور اخراجات کے درمیان عارضی خلا کو پُر کر سکتا ہے، یہ آمدنی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ جب گھرانوں کو معمول کی صارفیت برقرار رکھنے یا پہلے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے بار بار قرض لینا پڑے تو مالی شمولیت مالی کمزوری کو چھپانے لگتی ہے۔ جب کمزور قرض لینے والے اپنی آخری مالی بچت رہن رکھ رہے ہوں اور بینکوں کی بیلنس شیٹس صحت مند نظر آ رہی ہوں تو یہ صحت مند علامت نہیں ہے۔

(مضمون نگار اجیت راناڈے ایک معروف ماہر معاشیات ہیں، ان کا کا یہ مضمون پہلے ’دی بلین پریس‘ میں شائع ہو چکا ہے)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔