دہلی فسادات: انکت شرما قتل معاملہ میں طاہر حسین سمیت 5 مجرموں کو عمر قید کی سزا

دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے دہلی فسادات 2020 کے دوران آئی بی افسر انکت شرما کے قتل کیس میں سابق کونسلر طاہر حسین سمیت 5 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی

عدالت، علامتی تصویر
i

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سکیورٹی اسسٹنٹ انکت شرما کے قتل کے مقدمے میں دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے جمعہ کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت 5 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد عدالت سے باہر میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے طاہر حسین نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہائی کورٹ سے انصاف ملے گا۔

عدالت نے اس سے قبل 13 جولائی کو اس مقدمے میں سماعت مکمل ہونے کے بعد طاہر حسین، ناظم، قاسم، جاوید اور انس کو قتل اور دیگر سنگین جرائم کا قصوروار قرار دیا تھا۔

سزا کے تعین کے دوران دہلی پولیس نے پانچوں مجرموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا، تاہم عدالت نے تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔ یہ مقدمہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق ہے۔ انہی فسادات کے دوران آئی بی کے سکیورٹی اسسٹنٹ انکت شرما لاپتا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں ان کی لاش چاند باغ علاقے کے ایک نالے سے برآمد ہوئی تھی۔

اس مقدمے میں مجموعی طور پر 11 ملزمان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے ثبوتوں کے فقدان کی بنیاد پر 6 ملزمان کو بری کر دیا، جبکہ طاہر حسین، ناظم، جاوید، قاسم اور انس کو مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیا۔ عدالت نے ان پانچوں کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 302 (قتل)، 365 (اغوا)، 188، 153 اے، 147، 148 اور 149 کے تحت قصوروار ٹھہرایا۔ تاہم عدالت نے انہیں مجرمانہ سازش سے متعلق دفعہ 120 بی کے الزام سے بری کر دیا۔


سماعت کے دوران استغاثہ نے موقف اختیار کیا کہ انکت شرما کا قتل ایک منصوبہ بند کارروائی کا حصہ تھا اور اس کا مقصد فسادات کے دوران حالات کو مزید کشیدہ بنانا تھا۔ دہلی پولیس نے عدالت سے کہا کہ ایک سرکاری افسر کے قتل جیسے جرم پر سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تاکہ معاشرے میں مضبوط پیغام جائے۔

دوسری جانب مدعا علیہان کے وکلا نے عدالت سے نرمی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام مجرم خاندانی ذمہ داریاں رکھتے ہیں اور ان کا کوئی سابق مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے اس جرم کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔