
اجے ماکن / تصویر اے آئی
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی میں فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنند وہار میں اے کیو آئی (فضائی معیار اشاریہ) 500 تک پہنچ گیا، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی فضائی آلودگی اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم پیمائش کرنے والے آلات 500 سے اوپر کی پیمائش نہیں کر سکتے۔
اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تجزیہ 12 جولائی صبح 10 بجے سے 13 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ نتائج کا موازنہ گزشتہ سال 6 جولائی سے 20 جولائی 2025 کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا تاکہ ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ کا اثر نتائج پر نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اے کیو آئی کے مطابق دہلی کا اوسط اے کیو آئی 310 ریکارڈ کیا گیا، جو ’بہت خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق شہر کے کم از کم چھ فضائی نگرانی مراکز میں فضائی معیار انتہائی خراب درجے میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آنند وہار میں اشاریہ 500 تک پہنچ گیا۔
اجے ماکن نے دعویٰ کیا کہ موسم کے اثرات الگ کرکے بھی دہلی کا فضائی معیار گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے اعداد و شمار میں پیمائش سے متعلق خامیوں کے باعث 80 فیصد سے زیادہ فرق آ سکتا ہے، اسی لیے ان کا موجودہ تجزیہ بنیادی طور پر پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جنہیں زیادہ قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت برسات کا موسم ہے، جو عام طور پر سال کا وہ دور ہوتا ہے جب بارش کی وجہ سے فضائی آلودگی میں کمی آتی ہے، لیکن اس کے باوجود دہلی کی ہوا ’بہت خراب‘ زمرے میں ہے۔ ان کے مطابق اگر برسات کے موسم میں یہ صورتحال ہے تو سردیوں، خصوصاً نومبر میں فضائی آلودگی مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اجے ماکن نے خبردار کیا کہ طویل عرصے تک ایسی آلودہ ہوا میں سانس لینا پھیپھڑوں اور دل کے امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے، جبکہ بچے اور بزرگ اس کے اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ایم 10 کے ذرائع، جن میں تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی دھول شامل ہے، کے ساتھ ساتھ پی ایم 2.5 کے ذرائع، یعنی صنعتوں، گاڑیوں کے دھویں اور حیاتیاتی ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی آلودگی پر بھی فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موسم سے آزاد تجزیے میں پی ایم 10 کے اعتبار سے وزیرپور سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ سامنے آیا ہے، اس لیے وہاں مقامی سطح پر فوری اقدامات کیے جائیں اور صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے۔
اجے ماکن نے کمیشن برائے فضائی معیار کے انتظام اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی کی جوابدہی طے کرنے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔