
احمد آباد طیارہ حادثہ کا مقام / آئی اے این ایس
احمدآباد میں 12 جون کو پیش آنے والے ایئر انڈیا کے طیارہ حادثے کی تفتیش میں اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ حادثے کے فوراً بعد تحقیقات شروع کی گئی تھیں اور جلد ہی تحقیقاتی ٹیم کو حادثے کے شکار طیارے کا بلیک باکس بھی مل گیا تھا، جس کی جانچ کئی دنوں سے جاری تھی۔ اب اس بلیک باکس کی جانچ میں فیصلہ کن پیش رفت ہوئی ہے، جس سے حادثے کی اصل وجوہات سامنے آنے کی امید بڑھ گئی ہے۔
Published: undefined
آئی اے این ایس نے ذرائع کے حوالہ سے بتایا ہے کہ 24 جون کو تحقیقاتی ٹیم نے بلیک باکس کے کرش پروٹیکشن ماڈیول (سی پی ایم) کو بحفاظت نکال لیا تھا۔ اگلے ہی روز، یعنی 25 جون کو اس کا میموری ماڈیول کامیابی سے ایکسیس کر لیا گیا اور اس میں موجود مکمل ڈیٹا دہلی میں واقع ائیرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی لیبارٹری میں ڈاؤن لوڈ کر لیا گیا۔ اب ماہرین اس ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ پرواز کے دوران کیا کچھ پیش آیا، پائلٹس نے کیا ردعمل دیا اور تکنیکی نظام نے کس طرح کام کیا۔
Published: undefined
خیال رہے کہ بلیک باکس ایک اہم حفاظتی آلہ ہوتا ہے جو ہر طیارے میں نصب کیا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، جو طیارے کی رفتار، بلندی، انجن کی حالت اور دیگر تکنیکی معلومات کو محفوظ کرتا ہے اور کاک پٹ وائس ریکارڈر، جو پرواز کے دوران پائلٹس کی گفتگو، انتباہی الارمز اور دیگر اہم آوازوں کو ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ بلیک باکس انتہائی سخت حالات، جیسے شدید گرمی، پانی یا جھٹکے لگنے کے بعد بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔
Published: undefined
وزارت شہری ہوابازی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان تمام کوششوں کا مقصد حادثے کی اصل وجہ کو سامنے لانا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی بھی صورتِ حال سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی ماہرین ان عوامل کی بھی شناخت کریں گے جو ایسے واقعات کے پیچھے ہوتے ہیں تاکہ ہوابازی کے شعبے میں حفاظتی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ڈیٹا کا تجزیہ مکمل ہوگا، حادثے سے متعلق ایک جامع رپورٹ جاری کی جائے گی جس میں سفارشات بھی شامل ہوں گی۔ اس پیش رفت کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس افسوسناک واقعے کے اصل اسباب واضح ہو جائیں گے اور ان سے سیکھ کر آئندہ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined