ایران میں جوہری تباکاری پھیلنے سے کئی ممالک کو پہنچے گا خطرہ، کویت اور قطر جیسے پڑوسی ممالک میں تشویش کی لہر

اگر ریڈی ایشن کا کوئی بھی اخراج ہوتا ہے، خاص طور پر بوشہر جیسے ساحلی پلانٹ سے تو خلیجی خطے کے کم از کم 6 سے 8 ممالک کو مختلف سطحوں کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ایران پر اسرائیل کا حملہ (فائل)۔ تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں جاری فوجی تناؤ کے درمیان ایران میں نیوکلیئر ریڈی ایشن (جوہری تابکاری) کے امکانات سے متعلق خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے خبردار کیا ہے کہ اس خطے میں مسلسل حملوں سے نیوکلیئر سیکورٹی کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک تابکاری کے اخراج کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے، لیکن بدترین حالات میں ریڈیولاجیکل اخراج کے امکان سے مکمل طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آئیے جانتے ہیں کہ اگر ایران میں جوہری تابکاری کا پھیلاؤ ہوا تو کتنے ممالک اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔

اگر کسی بھی طرح کی تابکاری کا اخراج ہوتا ہے، خصوصاً بوشہر جیسے ساحلی پلانٹ سے، تو خلیجی خطے کے کم از کم 6 سے 8 ممالک کو مختلف سطحوں کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کا اصل اثر ہوا کی سمت، سمندری لہروں اور نقصان کی شدت پر منحصر ہوگا۔ سب سے زیادہ خطرہ ایران کے براہ راست پڑوسیوں اور خلیجی ممالک کو ہوگا، کیونکہ وہ جغرافیائی طور پر قریب ہیں اور ماحولیاتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔


کویت، قطر اور بحرین کو بڑی تشویش ہو سکتی ہے کیونکہ وہ پینے کے پانی کے لیے سمندری پانی کو صاف کرنے والے (ڈی سیلینیشن) پلانٹس پر کافی زیادہ منحصر ہیں۔ اگر تابکار مواد خلیج کے پانی کو آلودہ کرتا ہے تو ’ڈی سیلینیشن‘ سسٹم پر اثر پڑ سکتا ہے، جس سے تازہ پانی کی سپلائی میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات خاص طور پر خطرے کی زد میں ہے، کیونکہ اس کے پینے کے پانی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ ڈی سیلینیٹ کیے گئے سمندری پانی سے ہی آتا ہے۔ خلیج میں کوئی بھی آلودگی فوری طور پر آبی تحفظ کا مسئلہ بن سکتی ہے۔

سعودی عرب، عمان اور عراق جغرافیائی طور پر ایران کے قریب ہیں۔ وہ ہوا کے ذریعے آنے والے ریڈیو ایکٹو پارٹیکلز (تابکار ذرات) کی زد میں آ سکتے ہیں۔ کسی بڑے اخراج کی صورت میں، موسم کی صورتحال کے لحاظ سے ہوا سے پھیلنے والی آلودگی چند ہی گھنٹوں میں سرحدوں کے پار بھی پھیل سکتی ہے۔ اردن اور شام کو بھی خطے میں عدم استحکام اور اپنے علاقوں میں ’نیوکلیئر ریسرچ فیسیلٹیز‘ (جوہری تحقیقی مراکز) ہونے کی وجہ سے بالواسطہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے پورے خطے میں سیکورٹی سے متعلق خدشات بڑھ جاتے ہیں۔


ریڈی ایشن کے اچانک اخراج کی صورت میں حفاظت کا دارومدار اس سے کم سے کم رابطے پر ہوتا ہے۔ سب سے ضروری قدم گھر کے اندر جانا ہے۔ اینٹوں یا کنکریٹ سے بنی عمارت کے اندر رہنا باہر رہنے کے مقابلے میں بہتر تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دروازے اور کھڑکیاں بند ہونی چاہئیں اور پنکھے یا ایئر کنڈیشنر جیسے وینٹی لیشن سسٹم جو باہر کی ہوا کھینچتے ہیں، انہیں بند کر دینا چاہیے۔ وقت اور فاصلے کے اصول انتہائی اہم ہیں۔ تابکاری کے منبع سے جتنا دور رہا جائے اور اس کے قریب جتنا کم وقت گزارا جائے، خطرہ اتنا ہی کم ہوگا۔ کھانے اور پانی کی حفاظت بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو صرف سیل بند بوتل والا پانی اور ٹھیک سے پیک شدہ یا ڈبہ بند کھانا ہی استعمال کرنا چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔