
وزیر اعلیٰ کیرالہ پنرائی وجین / آئی اے این ایس
کیرالہ کی سیاست میں تقریباً تین دہائیوں تک مرکزی کردار ادا کرنے والے پنرائی وجین اب اپنی سیاسی زندگی کے ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ لیفٹ فرنٹ کی حالیہ انتخابی شکست کے بعد کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی آئی ایم کے اندر ان کے مستقبل کو لے کر سنجیدہ بحث شروع ہو گئی ہے۔ پارٹی کی پولت بیورو میٹنگ میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ کیرالہ اسمبلی میں اپوزیشن کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے اور آیا پنرائی وجین ہی اس کردار کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔
Published: undefined
پنرائی وجین نے 1996 میں ای کے نینار حکومت میں بجلی کے وزیر کے طور پر اہم سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد 1998 میں وہ سی پی آئی ایم کے کیرالہ ریاستی سکریٹری بنے اور آہستہ آہستہ پارٹی تنظیم پر اپنی مضبوط گرفت قائم کر لی۔ تقریباً دو دہائیوں تک پارٹی کے بیشتر اہم فیصلے ان کی منظوری کے بغیر نہیں ہوتے تھے اور اختلاف رائے رکھنے والے لیڈروں کو اکثر حاشیے پر دھکیل دیا جاتا تھا۔
2016 میں جب وہ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ بنے تو ان کی سیاسی طاقت مزید بڑھ گئی۔ انہوں نے نہ صرف حکومت بلکہ پارٹی پر بھی غیر معمولی اثر و رسوخ قائم رکھا۔ ان کے دور حکومت میں انتظامیہ اور پارٹی دونوں میں فیصلہ سازی کا مرکز تقریباً مکمل طور پر ان کی ذات بن گئی تھی۔ وزرا، افسران اور پارٹی قائدین ایک ایسی مرکزی قیادت کے تحت کام کر رہے تھے جہاں آخری فیصلہ پنرائی وجین ہی کا مانا جاتا تھا۔
Published: undefined
تاہم حالیہ انتخابی نتائج نے ان کی مضبوط سیاسی شبیہ کو دھچکا پہنچایا ہے۔ پارٹی کے اندر اب یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ جس قیادت میں لیفٹ فرنٹ کو اتنی بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا، کیا وہی چہرہ اپوزیشن کی قیادت بھی کرے؟ یا اب وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل کے لیڈروں کو آگے آنے کا موقع دیا جائے۔
پارٹی کے ایک حلقے کا ماننا ہے کہ اسمبلی سیاست، تجربے اور جارحانہ انداز کے اعتبار سے اب بھی پنرائی وجین کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ دوسری جانب کئی رہنما اس بات سے فکر مند ہیں کہ اگر انہیں ہی آگے رکھا گیا تو عوام میں حکومت کے خلاف پیدا ہونے والی ناراضی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ناقدین پہلے ہی ان پر اقتدار کو حد سے زیادہ مرکزیت دینے اور حکومت کو عام لوگوں سے دور کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
Published: undefined
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود پنرائی وجین نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے نہ تو اپوزیشن لیڈر بننے کی خواہش ظاہر کی ہے اور نہ ہی اس امکان کو مسترد کیا ہے۔ ان کا مؤقف یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر پوری پارٹی قیادت انہیں یہ ذمہ داری دینے پر متفق ہوگی تو ہی وہ اسے قبول کریں گے۔
اس ماہ اکیاسی برس کے ہونے والے پنرائی وجین کے لیے آنے والے دن انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ پارٹی کی مرکزی اور ریاستی سطح کی میٹنگوں میں نہ صرف اپوزیشن قیادت کا فیصلہ ہوگا بلکہ یہ بھی طے ہوگا کہ کیرالہ کی سیاست میں پنرائی وجین کے دور کو کس نظر سے یاد کیا جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined