
ابھیشیک بنرجی / آئی اے این ایس
نئی دہلی: ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے آنکھوں کے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہ ملنے پر کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ انہوں نے خصوصی اجازت کی عرضی (اسپیشل لیو پٹیشن) دائر کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ انہیں علاج کی غرض سے بیرونِ ملک سفر کی اجازت دی جائے۔ اس معاملے کی سماعت 3 اگست کو ہونے کا امکان ہے۔
ابھیشیک بنرجی نے اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 2016 میں ایک سڑک حادثے کے دوران ان کی آنکھ شدید زخمی ہوئی تھی، جس کے بعد سے وہ تقریباً ایک دہائی سے امریکہ میں اپنی آنکھ کا علاج کروا رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے علاج کے تسلسل کے لیے سات روز کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت مانگی تھی۔
تاہم، 20 جولائی کو جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی سنگل بنچ نے انہیں فوری طور پر بیرونِ ملک جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے ہدایت دی تھی کہ وہ پہلے کولکاتا کے سرکاری ایس ایس کے ایم میڈیکل کالج اور اسپتال کے ماہرینِ چشم سے رجوع کریں تاکہ ان کی طبی حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ بیرونِ ملک علاج کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ایس ایس کے ایم اسپتال کے شعبۂ چشم کے سربراہ کی جانب سے تشکیل دیے جانے والے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
مغربی بنگال حکومت نے بھی ابھیشیک بنرجی کی بیرونِ ملک سفر کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل راجدیپ مجمدار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ترنمول کانگریس کے رہنما کے خلاف کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور اگر انہیں بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی تو تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔
یہ معاملہ ایک ایسے مقدمے سے بھی جڑا ہوا ہے جس میں ابھیشیک بنرجی پر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والی تقاریر کرنے کا الزام ہے۔ ان پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف مبینہ طور پر دھمکی آمیز بیانات دینے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
کلکتہ ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں پہلے ہی ابھیشیک بنرجی کو گرفتاری سمیت سخت پولیس کارروائی سے عبوری تحفظ فراہم کیا تھا، تاہم اس کے ساتھ یہ شرط بھی عائد کی گئی تھی کہ وہ بیرونِ ملک سفر کرنے سے قبل عدالت سے پیشگی اجازت حاصل کریں۔
20 جولائی کو ہائی کورٹ نے بیرونِ ملک علاج کے لیے فوری اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے ان کے عبوری تحفظ میں 6 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی اور انہیں تحقیقات میں مکمل تعاون جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔