
تصویر اے آئی
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی مسلسل 79 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ 30 مئی سے جاری ہے اور اب تک اس میں ایک دن کے لیے بھی وقفہ نہیں آیا۔
اجے ماکن نے اپنی ایکس پوسٹ میں اس سلسلے کو ’سانس، ڈے 98، دی رن‘ کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 آلودگی مسلسل 79 دنوں سے گزشتہ سال کے متعلقہ دن سے زیادہ رہی ہے۔ اس سال اب تک دستیاب 228 دنوں کے اعداد و شمار میں 155 دن ایسے رہے جب پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔
ماکن کے مطابق ان 79 دنوں کے دوران پی ایم 10 کی اوسط اضافی مقدار 13.9 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل برقرار رہنے والا یہ فرق محض موسم کے اتار چڑھاؤ کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ موازنے میں موسم کے اثرات کو الگ کیا گیا ہے۔
اجے ماکن نے ’ڈی ویدرنگ‘ کے طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت جیسے موسمی عوامل کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کیا جاتا ہے۔ تیز ہوا اور بارش آلودگی کو منتشر یا کم کر سکتی ہے، جبکہ پرسکون موسم آلودگی کو فضا میں زیادہ دیر تک برقرار رکھتا ہے۔ اس لیے موسم کا اثر نکالنے کے بعد بچنے والا رجحان شہر کی اپنی فضائی آلودگی کی زیادہ واضح تصویر پیش کرتا ہے۔
تازہ اعداد و شمار میں آنند وہار کی صورت حال کو خاص طور پر تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ ماکن کے مطابق وہاں آج صبح اے کیو آئی 347 ریکارڈ کیا گیا، جو سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے پیمانے پر ’بہت خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ سی پی سی بی کے مطابق اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس سے متعلق بیماریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماکن کی رپورٹ کے مطابق آنند وہار کے متعلقہ مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 13 لاکھ 63 ہزار 291 افراد رہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں رہنے والا ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پوری دہلی میں تقریباً 16.3 لاکھ افراد ایسے مانیٹروں کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ تعداد تقریباً 2 مانیٹروں کے آس پاس کی آبادی کے حساب سے سامنے آتی ہے۔
اجے ماکن نے فضائی آلودگی کے روزانہ ریکارڈ ہونے والے اعداد و شمار کو عوام کے سامنے رکھنے اور اس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار باقاعدگی سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں، انہیں خاموشی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ماکن
موازنے کے لیے اس رپورٹ میں 10 سے 24 اگست 2025 کے اوسط کو بنیاد بنایا گیا ہے، جبکہ یکساں مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی ڈیٹا سی پی سی بی سے لیا گیا ہے اور موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے لیے ’ای آر اے 5‘ ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے۔
ماکن کی تازہ رپورٹ دہلی میں فضائی آلودگی کے مستقل رجحان پر حکومت کی جواب دہی کا سوال بھی اٹھاتی ہے۔ ان کے مطابق اگر موسم کا اثر نکالنے کے باوجود آلودگی مسلسل گزشتہ سال سے زیادہ رہتی ہے تو اس کے مستقل ذرائع، خصوصاً تعمیراتی اور سڑکوں کی دھول سمیت دیگر آلودگی پھیلانے والے ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔