
فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس
ہندوستان میں ترقیاتی منصوبے کے لیے مسلسل جنگلات کی زمین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ سڑک، ریلوے، کان کنی، بجلی اور آبپاشی جیسے منصوبوں کے لیے گزشتہ 3 سال میں 71 ہزار ہیکٹر سے زیادہ جنگل کی زمین کو غیر جنگلاتی کاموں کے لی منظوری دی گئی ہے۔ یہ معلومات مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں دی۔ حکومت کے مطابق یکم اپریل 2023 سے 31 مارچ 2026 کے درمیان ملک بھر میں مجموعی طور پر 71023.30 ہیکٹر جنگل کی زمین کو دوسرے کاموں کے لیے منظوری ملی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جتنی جنگل کی زمین کا استعمال ترقی کے کاموں میں ہوا ہے اس کی بھرپائی کے لیے بدلے میں شجرکاری کی بھی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 5 سال میں 178261.52 ہیکٹر رقبے پر شجر کاری کی گئی ہے۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ ان پودوں کے زندہ رہنے کی شرح مختلف ریاستوں میں 40 فیصد سے 100 فیصد کے درمیان ہے۔ لوک سبھا میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے یہ معلومات فراہم کیں۔
حکومت نے کہا کہ ملک میں جنگلات کا تخمینہ ہر 2 سال میں فارسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) کرتا ہے۔ اس کے لیے سیٹلائٹ تصاویر اور زمینی معائنوں دونوں سے مدد لی جاتی ہے۔ رپورٹ میں صرف جنگلات کا رقبہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان کے معیار کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔ جنگلات کو درختوں کی کثافت کی بنیاد پر 3 حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، انتہائی گھنے جنگلات، درمیانی گھنے جنگلات اور کھلے جنگلات۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وقتاً فوقتاً نئی ٹیکنالوجی اور بہتر سیٹلائٹ دیٹا کا استعمال کر کے رپورٹ کی درستگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ جنگل کی زمین مدھیہ پردیش میں غیر جنگلاتی کاموں کے لیے منظور کی گئی۔ یہاں 19432.14 ہیکٹر زمین ڈائیورٹ کی گئی۔ اس کے بعد اڈیشہ میں 8965.71 ہیکٹر، اروناچل پردیش میں 7334.87 ہیکٹر، جھارکھنڈ میں 5409.56 ہیکٹر اور چھتیس گڑھ میں 4218.95 ہیکٹر زمین کا استعمال دیگر منصوبوں کے لیے گیا۔ اتر پردیش میں بھی 3390.87 ہیکٹر جنگل کی زمین کو غیر جنگلاتی کاموں کے لیے منظوری ملی۔
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ جنگل کی زمین کان کنی کے لیے دی گئی۔ اس شعبے میں 16463.28 ہیکٹر جنگل کی زمین استعمال کرنے کی منظوری ملی۔ اس کے بعد ہائیڈل اور آبپاشی کے منصوبوں کے لیے 14294.41 ہیکٹر اور سڑک کی تعمیر کے لیے 12714.93 ہیکٹر جنگل کی زمین دی گئی۔ اس کے علاوہ بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کے لیے 7711.55 ہیکٹر، دفاعی منصوبوں کے لیے 6276.01 ہیکٹر اور ریلوے منصوبوں کے لیے 3887.71 ہیکٹر جنگل کی زمین منظور کی گئی۔
سب سے کم جنگل کی زمین غیر جنگلاتی کاموں کے لیے چندی گڑھ میں منظور کی گئی، جہاں صرف 0.24 ہیکٹر زمین ڈائیورٹ کی گئی۔ اس کے بعد لداخ میں 0.94 ہیکٹر، ناگالینڈ میں 3.93 ہیکٹر اور انڈمان و نکوبار جزائر میں 4.79 ہیکٹر جنگلاتی زمین کو غیر جنگلاتی کاموں کے لیے منظوری دی گئی۔ بہار میں 27.99 ہیکٹر، گوا میں 50.48 ہیکٹر، تمل ناڈو میں 60.32 ہیکٹر، کیرالہ میں 62.42 ہیکٹر، میگھالیہ میں 62.44 ہیکٹر اور دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں 70.34 ہیکٹر جنگلاتی زمین ڈائیورٹ کی گئی۔ ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گزشتہ 3 سالوں کے دوران غیر جنگلاتی کاموں کے لیے سب سے کم جنگلاتی زمین منظور کی گئی۔
گزشتہ 3 سالوں میں کچھ منصوبوں کے لیے بہت کم جنگلاتی زمین کی ضرورت پڑی۔ سب سے کم ایئرپورٹ کے لیے صرف 0.09 ہیکٹر جنگل کی زمین منظور کی گئی، جبکہ بی آر او کے موجودہ پلوں کو چوڑا اور مضبوط کرنے کے لیے 0.20 ہیکٹر زمین دی گئی۔ اسی طرح غیر روایتی توانائی کے منصوبوں کے لیے 7.17 ہیکٹر، معدنی تیل کی تلاش کے لیے 11.25 ہیکٹر، ہسپتال اور ڈسپنسری کے لیے 17.91 ہیکٹر اور کمیونیکیشن پوسٹ کے لیے 20.08 ہیکٹر جنگل کی زمین منظور ہوئی۔
دوسری جانب تھرمل پاور (41.66 ہیکٹر)، ہوا اور شمسی توانائی/پاور سب اسٹیشن (75.72 ہیکٹر)، نہروں کے منصوبوں (115.02 ہیکٹر)، اسکول اور تعلیمی اداروں (213.93 ہیکٹر) اور آپٹیکل فائبر و ٹیلی کام لائنوں (232 ہیکٹر) کے لیے بھی نسبتاً کم جنگلاتی زمین ڈائیورٹ کی گئی۔ ایکسپلوریشن اینڈ سروے کے لیے اس مدت کے دوران کسی بھی جنگلاتی زمین کو منظوری نہیں دی گئی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی جنگل کی زمین کو غیر جنگلاتی کاموں کے لیے منظوری دینے سے پہلے قانون کے تحت عمل پورا کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے میں معاوضہ جاتی شجرکاری کرائی جاتی ہے۔ یعنی جتنی جنگل کی زمین کا استعمال ترقیاتی کاموں میں ہوتا ہے، اس کی بھرپائی کے لیے دوسری جگہ پودے لگائے جاتے ہیں۔ حکومت کے مطابق گزشتہ 5 سالوں میں 1.78 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر ایسی شجرکاری کی گئی ہے۔
حکومت نے بتایا کہ فاریسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) پورے ملک میں سیٹلائٹ ڈیٹا اور زمینی معائنے کی بنیاد پر جنگلات کا سروے کرتا ہے۔ رپورٹ میں درختوں کی کثافت کی بنیاد پر جنگلات کو 3 زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں درختوں کی کثافت 70 فیصد یا اس سے زیادہ ہوتی ہے انہیں بہت گھنا جنگل، 40 فیصد سے 70 فیصد کے درمیان والے علاقوں کو درمیانی گھنا جنگل اور 10 فیصد سے 40 فیصد تک کثافت والے علاقوں کو کھلا جنگل مانا جاتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر سوشل میڈیا