قومی خبریں

چلتی کار پر گرا 65 فٹ اونچا ہائی ماسٹ پول، پرتاپ گڑھ میں ایس پی لیڈر کی موقع پر ہی موت

پٹرول پمپ پر بھارت پٹرولیم کی 65 فٹ اونچی ہائی ماسٹ لائٹ لگائی جا رہی تھی۔ پول کو کرین کے ذریعہ کھڑا کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران اچانک کرین کا پٹہ ٹوٹ گیا اور بھاری پول سیدھے یادو کی کار پرگرگیا۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو ویڈیو گریپ</p></div>

فوٹو ویڈیو گریپ

 
ali

اترپردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع میں اتوار کو ایک دردناک حادثے میں مقامی سماج وادی پارٹی کے رہنما اور ٹھیکیدار لال بہادر یادو (48) کی موت ہو گئی۔ یہ حادثہ انتو تھانہ علاقے کے بابو گنج بازار میں اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی کریٹا کار سے شہر کی طرف جا رہے تھے۔ اسی دوران پٹرول پمپ کے سامنے نصب کیاجارہا ہائی ماسٹ پل اچانک ان کی چلتی کار پر گرگیا۔ یہ پورا واقعہ قریب ہی نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا ہے۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق بابو گنج کے ایک پٹرول پمپ پر بھارت پٹرولیم کی تقریباً 65 فٹ اونچی ہائی ماسٹ لائٹ لگائی جا رہی تھی۔ پول کو کرین کے ذریعہ کھڑا کیا جا رہا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ پول کا وزن تقریباً 40 کوئنٹل تھا۔ اسی دوران اچانک کرین کا پٹہ ٹوٹ گیا اور بھاری پول سیدھے لال بہادر یادو کی کار کے بونٹ پر گرگیا۔ حادثہ اس قدر بھیانک تھا کہ کار پوری طرح تباہ ہوگئی اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے لال بہادریادو شدید طور پر زخمی ہوگئے۔

Published: undefined

واردات کے بعد آس پاس کے لوگوں میں افراتفری مچ گئی۔ موقع پر پہنچے مقامی لوگوں نے فوری طور پر کار کا دروازہ توڑ کر لال بہادر یادو کو باہر نکالا اورانہیں کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قراردے دیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی۔ اب انتظامیہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ پول کی تنصیب کے دوران حفاظتی معیارات پر عمل کیا گیا یا نہیں۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ پورے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے اور اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

Published: undefined

متوفی لال بہادر یادو سماج وادی پارٹی کے سرگرم مقامی لیڈر تھے اور دو بار انتو نگر پنچایت الیکشن لڑ چکے تھے۔ تاہم انہیں دونوں بار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ پیشے سے پی ڈبلیو ڈی کے ٹھیکیدار تھے اور ان کے پاس شراب کا ٹھیکہ بھی تھا۔ خاندانی معلومات کے مطابق لال بہادر یادو 3 بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑے تھے۔ ان کے پسماندگان میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ واقعے کے بعد اہل خانہ شدید صدمے میں ہیں اور علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined