قومی خبریں

جھارکھنڈ میں ندی کے کنارے ملا 500 پاؤنڈ وزنی امریکی زندہ بم، فوج نے سنبھالا مورچہ، علاقے میں افراتفری

اس دوران علاقائی پولیس سپرنٹنڈنٹ رشبھ گرگ نے بتایا کہ بم کافی پرانا معلوم ہوتا ہے، لیکن ابھی بھی انتہائی خطرناک حالت میں ہے۔ رانچی سے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فوج کی ٹیم کو جائے وقوعہ پر بلایا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو جھارکھنڈ پولیس ’ایکس‘ ہینڈل</p></div>

فوٹو جھارکھنڈ پولیس ’ایکس‘ ہینڈل

 
ali

 جھارکھنڈ کے جمشید پور واقع بہراگوڑا تھانہ علاقہ میں سوارنرکھا ندی کے ساحل پر ایک زندہ بم ملنے سے کھلبلی مچ گئی ہے۔ یہ واردات 21 مارچ کی ہے جہاں بم ملنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ بم پانی پڑا ناگوڈسائی علاقے میں ریت کی کھدائی کے دوران زیر زمین دریافت ہوا تھا۔ ضلع انتظامیہ نے اسے انتہائی طاقتور بتایا ہے اور اب اسے ناکارہ بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔

Published: undefined

’اے بی پی نیوز‘ کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ  گاؤں کے لوگ ندی کے کنارے ریت کھود رہے تھے جب انہیں زمین کے اندر دبے ہوئے اس بڑے بم کا پتہ چلا۔ بم کی اطلاع ملتے ہی پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی اور عوام میں خوف وہراس پھیل گیا۔ انتظامیہ نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سیکیورٹی بڑھا دی۔

Published: undefined

برآمد ہونے والا بم گیس سلنڈر کے سائز کا بتایا جاتا ہے، جس کا وزن تقریباً 500 پاؤنڈ یا تقریباً 227 کلو گرام ہے۔ اس پراے این۔ ایم64  ماڈل درج ہے اور’میڈ ان امریکہ‘ لکھا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ان ایکسپلوٹیڈ آرڈیننس ہے جو ممکنہ طور پر دوسری جنگ عظیم کا ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک امریکی میزائل بم ہے جو ابھی بھی زندہ حالت میں ہے۔ بم گیس سلنڈر کی شکل کا بتایا جاتا ہے۔

Published: undefined

علاقائی پولیس سپرنٹنڈنٹ رشبھ گرگ نے بتایا کہ بم کافی پرانا معلوم ہوتا ہے، لیکن ابھی بھی انتہائی خطرناک حالت میں ہے۔ رانچی سے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فوج کی ٹیم کو جائے وقوعہ پر بلایا گیا ہے۔ مقامی بم ڈسپوزل ٹیم نے بھی اس کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے فوج کی مدد کی ضرورت بتائی ہے۔ انتظامیہ نے قریبی دیہاتوں میں الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس امریکی بم کو آج فوج کی نگرانی میں بحفاظت ناکارہ بنا دیا جائے گا۔ پورے علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined