آم کھانے والوں کے لیے بری خبر! موسم کے قہر سے الفانسو کی 90 فیصد فصل تباہ، برآمدات پر بھی روک
ال نینو کے اثرات اور بے موسم درجہ حرارت نے آم کے باغات کو ویران کر دیا ہے۔ وہیں عالمی سطح پر کشیدگی نے برآمدات کی بھی کمر توڑ دی ہے جس کا اثرعام کسانوں سے لے کرعام آدمی کی جیب اور ذائقے پر پڑ رہا ہے۔
.jpg?rect=0%2C0%2C3456%2C1944&auto=format%2Ccompress&fmt=webp)
اس سال مہاراشٹر کے مشہور الفانسو آم کی تقریباً 90 فیصد فصل موسم کی نذر ہو گئی ہے۔ ال نینو کے سبب شدید گرمی اور بے موسم درجہ حرارت نے آم کے باغات کو ویران کر دیا ہے۔ وہیں عالمی سطح پر جاری کشیدگی نے برآمدات کی بھی کمر توڑ دی ہے جس کا براہ راست اثرعام کسانوں سے لے کر عام آدمی کی جیب اور ذائقے پر پڑ رہا ہے۔
مہاراشٹر کے ساحلی علاقوں، خاص طور پر دیو گڑھ کو الفانسو کا مرکز مانا جاتا ہے لیکن اس بار قدرت نے کچھ اور ہی فیصلہ کر رکھا ہے۔ دسمبر اور جنوری کے دوران دن رات کے درجہ حرارت میں آئے غیر معمولی فرق نے آم کے درختوں پر بور (پھول) ہی نہیں پروان چڑھنے دیئے۔ رہی سہی کسر اپریل اور مئی کی شدید گرمی نے پوری کر دی۔ زرعی افسر باپو صاحب مانک راؤ لامبڑے کے مطابق ال نینو کے اثر کی وجہ سے دیو گڑھ میں 85 سے 90 فیصد تک فصل تباہ ہو چکی ہے۔
’اکنامکس ٹائمس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس تباہی کا بڑا خمیازہ مقامی کسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ دیو گڑھ کی 26 سالہ باغبانی ماہر کومل والکے کا خاندان بھی اسی بحران سے پریشان ہے۔ ان کے 3 ایکڑ کے باغ میں اس سال نہ کے برابر آم ہوئے ہیں۔ آن لائن گراسری کمپنیوں کے بڑے آرڈر پورے کرنے اور والد کے کاروبار کو بچانے کے لئے انہیں اب مجبوری میں دوسرے بڑے فارمس سے آم خریدنے پڑ رہے ہیں تاکہ کسٹمر نہ ٹوٹیں۔
واضح رہے کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا آم پیدا کرنے والا ملک ہے۔ ریسرچ ایجنسی کرسل کے اعداد و شمار کے مطابق 25-2024 میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 2.8 کروڑ میٹرک ٹن آم کی پیداوار ہوئی تھی۔ گزشتہ سال ہندوستان کا مجموعی آم بازار 2.3 ارب ڈالر کا تھا جس کے 2031 تک 3.4 ارب ڈالر پہنچنے کا اندازہ ہے۔ یہاں سے ہرسال کروڑوں ڈالر کے تازے آم اور مینگو پلپ کی برآمد ہوتی ہے لیکن اس سال فصل کی کمی نے بازار کا پورا جغرافیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔ معیار اور پیداوار دونوں متاثر ہونے سے پوری سپلائی چین درہم برہم ہو گئی ہے۔
خراب موسمی حالات کا سامنا کر رہے کسانوں اور تاجروں کے لیے بین الاقوامی حالات نے پہلے ہی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے۔ ایران جنگ کی وجہ سے ہندوستان کی آم کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس سے امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، کویت اور قطر جیسے بڑے خریدار ممالک کو سامان پہنچانا مشکل ہو گیا ہے۔ شریوالی ایگرو کے شریک بانی شریدھر پاٹھک بتاتے ہیں کہ مال برداری کی لاگت دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہے۔ دبئی اور عمان کی ترسیل میں تاخیر یا منسوخی کے باعث اس کے کاروبار میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برآمد کے لیے رکھا گیا آم اب مقامی منڈیوں میں بھیجا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ال نینو کے سبب پیداوار میں شدید کمی کے باوجود مقامی منڈیوں میں آم کی قیمتوں میں وہ اضافہ نہیں دیکھا گیا جو عام طور پر قلت کے وقت نظر آتا ہے۔
آم کا کاروبار صرف باغات تک محدود نہیں ہے، اس کے ارد گرد ایک پوری معیشت گھومتی ہے۔ 52 سالہ سنجے نارے، جو دیو گڑھ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور مالون میں آم کی پیٹی ( کارٹن) بنانے کی فیکٹری چلاتے ہیں، ان کے پاس اس سال تقریباً 1 لاکھ خالی پیٹیوں کا ذخیرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ساحلی علاقے کی پوری معیشت کا انحصار صرف آم اور مچھلی پر منحصر ہے۔ گرمیوں میں اگر آم کا کاروبار ٹھپ ہو جائے تو مقامی لوگوں کے پاس روزی روٹی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں بچتا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
