
ممتا بنرجی اور کاکولی دستیدار / تصاویر آئی اے این ایس
کولکاتا/نئی دہلی: ترنمول کانگریس میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان پارٹی کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر پارلیمنٹ میں الگ گروپ کی منظوری دینے اور علیحدہ نشستوں کا انتظام کرنے کی درخواست کی ہے۔ باغی اراکین نے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا ہے، جسے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول سپریمو ممتا بنرجی کے لیے بڑا سیاسی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
اطلاعات کے مطابق باغی گروپ نے اپنے خط میں کاکولی گھوش دستیدار کو گروپ کا رہنما تسلیم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ خط پر دستخط کرنے والوں میں شتابدی رائے، پرسون بنرجی، جگدیش بسونیا، پارتھ بھومک، اروپ چکروتی، اسیت مل، شرمیلا سرکار، بپی ہلدر اور دیگر اراکین پارلیمنٹ شامل ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترنمول کانگریس کی اعلیٰ قیادت نئی دہلی میں انڈیا بلاک کی میٹنگ میں شریک تھی۔ اسی دوران ناراض اراکین پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ اس میٹنگ میں راجیہ سبھا کے سابق رکن سکھیندو شیکھر رائے بھی موجود تھے، جنہوں نے بعد میں راجیہ سبھا کی رکنیت اور پارٹی دونوں سے استعفیٰ دے دیا۔
Published: undefined
کاکولی گھوش دستیدار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ باغی اراکین نے موجودہ سیاسی حالات اور مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے این ڈی اے کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گروپ کے اراکین کو لگتا ہے کہ ان کا سیاسی مستقبل این ڈی اے کے ساتھ زیادہ محفوظ ہوگا۔
اس سے قبل بھی ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم پارلیمانی سطح پر اتنی بڑی تعداد میں اراکین کا بیک وقت الگ راستہ اختیار کرنا پارٹی قیادت کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
Published: undefined
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر باغی گروپ کو باضابطہ منظوری مل جاتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ مغربی بنگال کی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ترنمول کانگریس کی طرف سے اس تازہ پیش رفت پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ باغی اراکین کی جانب سے اسپیکر کو خط لکھے جانے اور این ڈی اے کی حمایت کے اعلان کے بعد اب نظریں لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے اور ترنمول قیادت کے آئندہ لائحۂ عمل پر مرکوز ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined