قومی خبریں

کھڑگے کی دعوت پر ظہرانہ کے لیے ’ساگر رتن ریسٹورینٹ‘ پہنچے راہل-پرینکا سمیت 150 اراکین پارلیمنٹ، پولیس الرٹ

پون کھیڑا نے کہا کہ ’’آج مینیو میں بھوجن ہے، آندولن نہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ہم دستاویز پر دستخط کریں گے، الیکشن کمیشن سبھی کے دستخط چاہتا ہے، وہ بڑے لوگ ہیں، ہمارے ساتھ رسمی ہو گئے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>کھڑگے، راہل، پرینکا / آئی اے این ایس</p></div>

کھڑگے، راہل، پرینکا / آئی اے این ایس

 

راجدھانی دہلی کے ’جن پتھ‘ پر اس وقت زبردست سیکورٹی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس کی وجہ ہے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے ذریعہ جن پتھ واقع ’ساگر رتن ریسٹورینٹ‘ میں انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کو ظہرانہ کی دعوت پر مدعو کرنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی سمیت کم و بیش 150 اراکین پارلیمنٹ ساگر رتن ریسٹورینٹ پہنچ چکے ہیں اور ظہرانہ کے ساتھ ساتھ کچھ اہم امور پر تبادلہ خیال ہونا ہے۔

ذرائع کے مطابق ظہرانہ کے وقت اپوزیشن ’ووٹ چوری‘ کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ پر اپنے اگلے قدم کی منصوبہ بند کر سکتا ہے۔ اس ظہرانہ میں شامل ہونے پہنچے کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج ظہرانہ کے مینیو میں بھوجن (کھانا) ہے، آندولن نہیں۔‘‘ جب ان سے ایک میڈیا اہلکار نے راہل اور پرینکا کے خلاف ہوئی ایف آئی آر سے متعلق پوچھا گیا، تو انھوں نے کہا کہ ’’ہم ایف آئی آر سے ڈرتے نہیں ہے، یہ ہمارے لیے اعزاز کی علامت ہے۔‘‘ ظہرانہ کے مقصد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم دستاویز پر دستخط کریں گے، کیونکہ الیکشن کمیشن سبھی کے دستخط چاہتا ہے۔ وہ بڑے لوگ ہیں، وہ ہمارے ساتھ رسمی ہو گئے ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں کے لوک سبھا و راجیہ سبھا اراکین کو جس ریسٹورینٹ میں دعوت دی گئی ہے، وہ جنتر منتر سے محض 100 میٹر کی دوری پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن پتھ میں ہر طرف سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ کئی مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور پولیس انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہے۔ ساگر رتن ریسٹورینٹ کے منیجر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں 150 سے 200 اراکین پارلیمنٹ کے پہنچنے کی جانکاری ملی ہے۔ ایسے میں پولیس و انتظامیہ کسی احتجاج یا مظاہرہ کے امکان کو دیکھتے ہوئے اپنی طرف سے کوئی لاپروائی نہیں کرنا چاہتی۔ اس وقت دہلی پولیس نے ’ویٹ اینڈ واچ‘ والی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کناٹ پلیس کی طرف جانے کی کوشش کریں گے، تو انھیں روکنے کی پوری تیاری ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں ڈی سی پی شرما پولیس اہلکاروں کو بتا رہے ہیں کہ کس طرح کی کارروائی انھیں کرنی ہے اور احتجاجی مظاہرہ کی صورت میں کس طرح حراست میں لینا ہے۔ وہ بتا رہے ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ سے اچھی طرح بات کرنی ہے اور انھیں سمجھانا ہے کہ دفعہ 163 نافذ ہے۔ خاتون اراکین پارلیمنٹ کو خاتون پولیس اہلکاروں کے ذریعہ ہی ہینڈل کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ پولیس کی یہ سبھی تیاریاں انڈیا بلاک کے لیڈران کی طرف سے کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرہ کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے کی گئی ہیں، حالانکہ اپوزیشن لیڈران میں سے کسی نے بھی دھرنا یا مظاہرہ جیسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔ سبھی کو ظہرانہ ختم ہونے کا انتظار ہے، تاکہ انڈیا بلاک کے اگلے قدم کے بارے میں جانکاری مل سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔