
علامتی تصویر
قومی راجدھانی دہلی میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف تشدد اور حملوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان راجدھانی کے سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں میں 149 معاملے درج کئے گئے ہیں۔ یہ معلومات دہلی حکومت نے حالیہ اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران ایک سوال کے جواب میں دی ہے۔
Published: undefined
اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں ڈاکٹروں اور طبی عملے پر حملوں کے سب سے زیادہ 49 معاملے درج کئے گئے۔ اس کے بعد 2025 میں 48 واقعات رپورٹ ہوئے۔اس سے پہلے سال 2023 میں ایسے 24 معاملے درج ہوئے تھے۔ 2021 اور 2022 میں سب سے کم 14-14 معاملے رپورٹ کئے گئے تھے۔ گزشتہ 5 سالوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اسپتالوں میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کی حفاظت ایک سنگین تشویش بنتی جا رہی ہے۔
Published: undefined
دہلی حکومت نے سرکاری اسپتالوں اور طبی خدمات کے ڈائرکٹوریٹ جنرل کی طرف سے دی گئی معلومات کی بنیاد پر33 معاملات میں اسپتال انتظامیہ نے خود پولیس میں شکایت درج کرائی۔ ان شکایات کی بنیاد پر ادارہ جاتی ایف آئی آر درج کی گئیں۔
Published: undefined
حکومت نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹروں اور طبی اداروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسپتالوں میں سیکورٹی کمیٹیوں کی تشکیل کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی سیکورٹی گارڈز کو تعینات کیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ ایمرجنسی محکموں میں دہلی پولیس کے اہلکاروں کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
Published: undefined
اس کے علاوہ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیے گئے ہیں۔ تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات سے متعلق معلومات بھی اسپتال کے احاطے میں آویزاں کی گئی ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ پولیس کی باقاعدہ گشت کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فی الحال ڈاکٹروں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے خلاف تشدد کے معاملات میں سخت کارروائی یا فوری انصاف یقینی بنانے کے لیے اسپیشل سیل قائم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
Published: undefined