
ایس آئی آر، تصویر سوشل میڈیا
مغربی بنگال اسمبلی میں 5 فروری کو ایس آئی آر سے متعلق ایک اہم قرارداد پیش کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خوف اور گھبراہٹ کے سبب 107 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ یہ قرارداد اسمبلی سے پاس بھی ہو گیا ہے۔
Published: undefined
آج مغربی بنگال اسمبلی میں ریاستی پارلیمانی امور کے وزیر شووَن دیب چٹوپادھیائے نے رول-169 کے تحت قرارداد پیش کیا۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخاب سے قبل ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے نام پر ریاست میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بنایا گیا ہے۔ قرارداد کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ اس خوف سے نبرد آزما رہے ہیں کہ کہیں ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا نہ دیا جائے۔ اسی ذہنی دباؤ اور فکر کے سبب 107 لوگوں کی جان جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان میں خودکشی کے معاملے بھی شامل ہیں۔
Published: undefined
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تو دعویٰ کیا ہے کہ ایس آئی آر کے خوف سے روزانہ 4-3 لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایس آئی آر کو این آر سی لانے کا پچھلا دروازہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی مغربی بنگال کو ہدف بنا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں غیر جانبدار کردار نہیں ادا کر رہا۔ الیکشن کمیشن دراصل مرکزی حکومت کے اشارے پر کام کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے مطابق جو اموات ہوئی ہیں، ان کی اخلاقی ذمہ داری الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کو لینی چاہیے۔
Published: undefined
دوسری طرف بی جے پی نے ممتا بنرجی کے الزامات کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ترنمول کانگریس کے لیڈران قصداً لوگوں کے درمیان گمراہی پھیلا رہے ہیں۔ اس طرح وہ انتخاب میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کے مطابق ترنمول کانگریس نے جن اموات کا حوالہ دیا ہے، وہ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر پیش آئے واقعات ہیں، جنھیں سیاسی رنگ دینا غلط ہے۔ بی جے پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی ایک معمول ہے، جسے خوف سے جوڑنا غلط ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined