محمد یونس (فائل)، ویڈیو گریب
شیخ حسینہ کے بعد خالدہ ضیاء کی پارٹی نے بھی بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس پر ہندوستان کے خلاف بیان دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ڈھاکہ میں پیر (2 جون) کو محمد یونس نے ایک کل جماعتی میٹنگ بلائی تھی۔ میٹنگ میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے نمائندہ نے کہا کہ ’’محمد یونس انتخاب نہیں کرانا چاہتے ہیں، اس لیے ہندوستان کا نام لے کر اس معاملہ کو ٹال رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
بی این پی کے نمائندہ صلاح الدین نے کہا کہ ’’آپ بار بار کہہ رہے ہیں کہ ایک ملک بنگلہ دیش میں قبل از وقت انتخاب چاہتا ہے۔ ہم پر بھی آپ ہندوستان کی طرح بات کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں، لیکن کیا آپ بتائیں گے کہ آخر آپ انتخاب کیوں نہیں کرا رہے ہیں؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یونس حکومت اصلاح کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔ حکومت یہ نہیں بتا سکتی ہے کہ آخر گزشتہ 10 ماہ میں کیا کیا ہوا؟ جب 10 ماہ میں کچھ نہیں ہوا تو اگلے 10 ماہ میں کیا ہو جائے گا؟ صلاح الدین کے مطابق یونس حکومت صرف بیان بازی پر چل رہی ہے، حکومت غیر جانبدار نہیں ہے۔ ایک پارٹی کو آگے بڑھانے کے لیے مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے، اسے ہم برداشت نہیں کریں گے۔
Published: undefined
یونس کی میٹنگ میں بی این پی کے نمائندہ صلاح الدین نے یہ بھی کہا کہ ’’آپ نے جاپان میں یہ بیان دیا کہ صرف ایک پارٹی دسمبر 2025 تک انتخاب چاہ رہی ہے۔ یہاں ہم 30 پارٹیاں موجود ہیں، جن میں سے صرف 3 پارٹیاں ہی دسمبر میں انتخاب نہیں چاہ رہی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آپ غور سے دیکھ لیجیے کہ ہم 27 پارٹیاں ایک ساتھ ہیں۔ آپ نے جو بیان دیا، اس سے ہم لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کے لوگ بھی آپ کے اس بیان سے حیران ہیں۔ بی این پی کے مطابق اگر دسمبر 2025 میں انتخاب نہیں کرائے گئے تو آنے والے وقت میں انتخاب کرانا آسان نہیں ہوگا۔ ساتھی ہی بی این پی نے فوری طور پر انتخاب کے لیے روڈ میپ جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
میٹنگ میں عبوری حکومت کے سربراہ یونس بی این پی کی باتوں کو خاموشی سے سنتے رہے۔ میٹنگ میں موجود ذارائع نے بنگلہ دیشی اخبار ’پرتھم آلو‘ کو بتایا کہ انتخاب کو لے کر یونس نے کچھ نہیں کہا ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کی مقامی میڈیا کے مطابق محمد یونس کو لگتا ہے کہ وہ بہتر طریقے سے انتخاب نہیں کرا پائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یونس دسمبر میں انتخاب کرانے سے کترا رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined