
عمر خالد اور ظہران ممدانی / تصاویر آئی اے این ایس اور گیٹی امیجز
نیویارک شہر کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی نے ہندوستانی سماجی کارکن اور سابق طلبہ رہنما عمر خالد کے نام ایک ذاتی، ہاتھ سے لکھا ہوا خط تحریر کیا ہے، جو اب منظرِ عام پر آیا ہے۔ یہ خط دسمبر 2025 میں عمر خالد کے والدین کے امریکی دورے کے دوران انہیں دیا گیا تھا، جسے بعد ازاں خالد کی پارٹنر بانوجیوتسنا لہری نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ یہ خط عین اس وقت عوام کے سامنے آیا جب ظہران ممدانی نصف شب ایک تاریخی تقریب میں نیویارک کے 112ویں میئر کے طور پر حلف لے رہے تھے۔
Published: undefined
عمر خالد سنہ 2020 سے دہلی فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت جیل میں قید ہیں۔ وہ حال ہی میں اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے عارضی ضمانت پر رہا ہوئے تھے، تاہم تقریب کے بعد انہیں دوبارہ جیل جانا پڑا۔ اس پس منظر میں ممدانی کا یہ خط ایک علامتی اور اخلاقی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ظہران ممدانی نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ عمر خالد کے اُن خیالات کو اکثر یاد کرتے ہیں جو انہوں نے قید کے دوران تلخی اور حوصلے کے بارے میں تحریر کیے تھے۔ خط میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ خالد کے والدین سے ملاقات انہیں خوشگوار محسوس ہوئی اور یہ کہ ’ہم سب آپ کو یاد کر رہے ہیں۔‘ اس جملے کو انسانی ہمدردی اور یکجہتی کے پیغام کے طور پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
Published: undefined
عمر خالد کے والد سید قاسم رسول الیاس نے بتایا کہ ظہران ممدانی نہ صرف خالد کے معاملے سے واقف ہیں بلکہ انہوں نے جیل سے لکھی گئی خالد کی تحریریں بھی پڑھی ہیں۔ اسی امریکی دورے کے دوران خالد کے والد نے امریکی کانگریس کے رکن جیمی راسکن سے بھی ملاقات کی، جس کے بعد متعدد امریکی قانون سازوں کی جانب سے ہندوستان کے سفیر کو ایک خط ارسال کیا گیا، جس میں عمر خالد کی طویل پیشگی حراست پر تشویش ظاہر کی گئی۔
بانوجیوتسنا نے عارضی ضمانت کے دوران گزارے گئے دنوں کو قیمتی قرار دیا اور بتایا کہ خالد نے اس مختصر مدت میں گھر والوں کے ساتھ وقت گزارا اور گھریلو کھانوں سے لطف اندوز ہوئے۔ واضح رہے کہ ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم، جنوبی ایشیائی اور افریقی نژاد میئر ہیں اور ان کا سیاسی مؤقف سماجی انصاف، شہری حقوق اور بین الاقوامی یکجہتی پر مبنی رہا ہے۔ عمر خالد کے اہلِ خانہ سے رابطہ اور یہ ذاتی خط اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined