
فائل تصویر آئی اے این ایس
ایران نے منگل کو اسرائیل کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی۔ اس نے بنجمن نیتن یاہو کے ملک کی جانب تقریباً 200 میزائل داغے۔ حملے کے بعد اسرائیل میں سائرن کی آوازیں گونجنے لگیں اور عام لوگوں کو فوری طور پر بم شیلٹرز میں منتقل کر دیا گیا۔ اسرائیل کی صورتحال پر امریکہ برہم ہو گیا اور صدر جو بائیڈن نے اپنے ملک کی فوج کو ایرانی میزائل مار گرانے کا بڑا حکم دے دیا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم سے اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ قومی سلامتی ٹیم کو باقاعدہ اپ ڈیٹس موصول ہوتے ہوئے صدر بائیڈن نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایرانی حملوں کے خلاف اسرائیل کے دفاع میں مدد کرے اور اسرائیل کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو مار گرائے۔‘‘
درحقیقت منگل کی شب ایران نے حزب اللہ کے رہنما اور حماس کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے بدلے میں اسرائیل پر درجنوں میزائل داغے جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم کے قریب کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ نیوز ایجنسی اے پی نے بتایا کہ اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن دوبارہ بجنے لگے جو کہ نئے میزائل حملوں کی علامت ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی میزائل حملے میں بہت کم لوگ زخمی ہوئے ہیں اور عام لوگ بنکروں سے باہر آ سکتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔