عالمی خبریں

افغانستان میں تعینات امریکی فوجی کرسمس اپنے گھروں میں منائیں گے: ٹرمپ

صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ سے قبل قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں امریکہ کے 5 ہزار سے کم فوجی تعینات ہیں جنہیں اگلے برس کے اوائل میں گھٹا کر 2500 سے کم کر دیا جائے گا۔

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی 

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ رواں برس کرسمس تک امریکہ کی تمام فوج افغانستان سے واپس اپنے ملک آجانی چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات جمعرات کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہی۔ انہوں نے یہ ٹوئٹ ایسے موقع پر کیا ہے جب امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے چند گھنٹے قبل ہی کہا تھا کہ امریکہ آئندہ برس کے اوائل تک افغانستان میں اپنی فوجیوں کی تعداد 2500 تک گھٹا دے گا۔

Published: undefined

رواں برس فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں طالبان کے دہشت گردی کی روک تھام کی یقین دہانیوں کے بدلے امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج مئی 2021 تک واپس بلانے کے لئے کہا تھا۔ طالبان نے اس کے بدلے مستقل جنگ بندی اور افغان حکومت کے ساتھ شراکتِ اقتدار کا فارمولا طے کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

Published: undefined

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ امریکہ نومبر تک افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد 4 سے 5 ہزار تک کر لے گا۔ اس سے کم تعداد کرنے کا فیصلہ افغانستان کے حالات پر منحصر ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ "ہمیں افغانستان میں تھوڑی تعداد میں خدمات انجام دینے والے اپنے بہادر مرد اور خواتین کو کرسمس تک واپس اپنے گھر بلا لینا چاہیے۔"

Published: undefined

صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ سے یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ وہ یہ حکم دے رہے تھے یا اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کر رہے تھے۔ اگرچہ اب بھی عراق، شام اور افغانستان میں امریکہ کے ہزاروں فوجی موجود ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ 'نہ ختم ہونے والی' جنگوں کا خاتمہ اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون سمجھتے ہیں۔

Published: undefined

صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ سے چند گھنٹے قبل قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں امریکہ کے پانچ ہزار سے کم فوجی تعینات ہیں جنہیں اگلے برس کے اوائل میں گھٹا کر 2500 سے کم کر دیا جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined