پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ پر حکومت وائٹ پیپر جاری کرے: ڈاکٹر نریش کمار

کانگریس لیڈر نے سوال کیا ہے کہ 20 فیصد ایتھنول کی ملاوٹ کے باوجود پٹرول سستا کیوں نہیں ہوا؟ پرانی گاڑیوں کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کون لے گا؟

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر نریش کمار / تصویر بشکریہ ایکس /&nbsp;DrNareshkr@</p></div>
i

نئی دہلی: دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کے معاملہ پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ای-20 ایندھن پالیسی، اس کے معاشی اثرات اور عام گاڑی مالکان پر اس کے اثرات سے متعلق فوری طور پر ایک جامع وائٹ پیپر جاری کرے۔ ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ سے خام تیل کی درآمدات میں کمی آئے گی اور ہندوستان کی توانائی سیکورٹی مضبوط ہوگی۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پٹرول میں اب 20 فیصد تک ایتھنول ملایا جا رہا ہے تو صارفین کو پٹرول کی قیمت میں کوئی خاطر خواہ کمی کیوں نہیں ملی؟

کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ اس وقت پٹرول تقریباً 100 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق ایتھنول کی قیمت تقریباً 60 سے 65 روپے فی لیٹر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’اگر نسبتاً سستا ایتھنول 20 فیصد کے تناسب سے پٹرول میں ملایا جا رہا ہے تو پھر پٹرول کی قیمت اسی تناسب سے کم کیوں نہیں ہوئی؟ اس مالی منفعت کا اصل فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟‘‘ ڈاکٹر نریش کمار نے مزید کہا کہ ’’حکومت عام شہریوں اور ان کی گاڑیوں کو ملک گیر تجربے کا حصہ بنا رہی ہے۔ حکومت اسے توانائی کی منتقلی قرار دیتی ہے، لیکن عوام اسے اپنی گاڑیوں پر مناسب حفاظتی اقدامات، شفافیت اور جوابدہی کے بغیر کیا جانے والا ایک تجربہ سمجھتے ہیں۔‘‘


ڈاکٹر نریش کمار کا کہنا ہے کہ ای-20 سے مطابقت رکھنے والی گاڑیاں 2023 کے بعد ہی ہندوستانی بازار میں آنا شروع ہوئی ہیں اور اس وقت سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں میں ان کا تناسب بہت کم ہے۔ ان کے مطابق 2023 سے پہلے خریدی گئی تقریباً 97 فیصد گاڑیاں طویل مدت تک زیادہ مقدار میں ایتھنول ملا ایندھن استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں کی گئی تھیں۔ سروے کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 66 فیصد گاڑی مالکان نے ایتھنول ملا ایندھن استعمال کرنے کے بعد مائلیج میں 10 سے 15 فیصد تک کمی کی شکایت کی ہے۔ کئی صارفین نے انجن سے متعلق مسائل، دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات، انجن کے زیادہ گرم ہونے اور کارکردگی میں کمی کی بھی شکایت کی ہے۔

ڈاکٹر نریش کمار نے مرکزی حکومت سے فوری طور پر درج ذیل سوالات کے جواب دینے کا مطالبہ بھی کیا:

  • ایتھنول ملے ایندھن کے استعمال سے پرانی گاڑیوں کو ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کون لے گا؟

  • بڑے پیمانے پر ایتھنول کی ملاوٹ کے باوجود پٹرول کی قیمتیں کیوں کم نہیں کی گئیں؟

  • ای-20 پالیسی سے مالی فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟

  • انجن کی طویل مدتی حفاظت اور ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے کون سی آزاد سائنسی تحقیقات کرائی گئی ہیں؟

  • مالی نقصان اٹھانے والے صارفین کے لیے حکومت کس قسم کے معاوضے یا حفاظتی اقدامات کا منصوبہ رکھتی ہے؟


کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہندوستان کی عوام حکومت سے تشہیری مہمات اور اشتہارات نہیں بلکہ واضح، شفاف اور شواہد پر مبنی جوابات کے مستحق ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ملک بھر کے کروڑوں شہریوں کو ایک قومی سطح کے ایندھن کے تجربے کا حصہ بنانے سے پہلے حکومت کو جوابدہی، شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘