امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ان ہزاروں وفاقی ملازمین کو دوبارہ ملازمت پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جنہیں ’ناقص کارکردگی‘ کی بنیاد پر برطرف کر دیا گیا تھا۔ جج ولیم السپ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ برطرفیاں محض قانونی تقاضوں سے بچنے کی کوشش تھیں اور ملازمین کی حقیقی کارکردگی پر مبنی نہیں تھیں۔
یہ حکم 6 وفاقی ایجنسیوں، جن میں محکمہ خزانہ، امورِ سابق فوجی، زراعت، دفاع، توانائی اور داخلہ شامل ہیں، پر لاگو ہوگا۔ جج نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بہتر کارکردگی والے ملازمین کو غیر منصفانہ طور پر نکالنا افسوسناک ہے اور اس طرح کی کارروائی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
Published: undefined
سان فرانسسکو میں ہونے والی سماعت کے دوران جج السپ نے کہا، ’’یہ ایک افسوسناک دن ہے جب حکومت بہترین ملازمین کو برطرف کرتی ہے اور پھر کارکردگی کا بہانہ بناتی ہے۔ یہ جواز محض ایک دکھاوا ہے۔‘‘ عدالت نے وفاقی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ تمام برطرف ملازمین کو فوری طور پر بحال کریں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی وفاقی حکومت کے سائز کو محدود کرنے اور سرکاری اخراجات میں کمی لانے کی پالیسی اپنائی ہے۔ اس پالیسی کے تحت ہزاروں ملازمین کو برطرف کیا گیا، جس پر متعدد ملازمین نے عدالتوں سے رجوع کیا۔
Published: undefined
عدالت کے اس فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کی حکومتی ڈھانچے میں کی جانے والی کٹوتیوں کے خلاف ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ملازمین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیا اور اسے وفاقی ملازمین کے حقوق کا تحفظ قرار دیا۔
یہ فیصلہ ٹرمپ کی حکومتی اصلاحات کے خلاف ایک بڑی قانونی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف وفاقی ملازمین کے حقوق مضبوط ہوں گے بلکہ انتظامی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات ٹرمپ انتظامیہ کی مستقبل کی پالیسیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined