
واشنگٹن: امریکا نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ "سنجیدہ مذاکرات" میں شامل ہوں۔ امریکہ نے یہ اپیل ان (طالبان) کے اس ریمارکس کے بعد کی تھی کہ جب تک افغانستان میں نئی حکومت سے معاہدہ نہیں ہوگا تب تک جنگ بندی اور امن پر اتفاق نہیں کریں گے۔
Published: undefined
امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان جیلینا پورٹر نے بتایا کہ "ہم طالبان سے افغانستان کے مستقبل کے لئے ایک سیاسی روڈ میپ طے کرنے کے لئے 'سنجیدہ مذاکرات' میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں اور جس کے ذریعے ایک منصفانہ اور دیرپا حل نکل سکے۔
Published: undefined
جیلینا پورٹر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان تنازعہ میں امریکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "ترجمانوں اور دیگر افغانیوں کے خلاف تشدد اور مظالم کی حالیہ اطلاعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طالبان انسانی جان اور انسانی حقوق کا بہت کم احترام کر رہی ہیں۔" ہم ہدف بنا کر کیے گئے حملوں، اہم انفراسٹرکچر کی تباہی کے ساتھ ساتھ افغانستان کے عوام پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ "
Published: undefined
واضح رہے کہ حال ہی میں طالبان کے ترجمان اور اس گروپ کی مذاکراتی ٹیم کے رکن سہیل شاہین نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ طالبان اپنے ہتھیار ڈال دے گا جب ملک میں ایک قابل قبول مذاکراتی حکومت قائم ہوگی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined