عالمی خبریں

بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرترکیہ بھی سخت قدم اُٹھانے کی تیاری میں، پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پرغور

دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان ترک پارلیمنٹ کی طرف سے پیش کی گئی ایک رپورٹ میں نابالغوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی، عمر کی تصدیق اور مواد کی فلٹرنگ جیسے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

بچوں اور نوعمروں پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث تیز ہوتی جارہی ہے۔ اسی کڑی میں ترکیہ نے بھی نابالغوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کی سمت میں قدم بڑھادیئے ہیں۔ اس دوران ترکیہ کی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے حال ہی میں جاری رپورٹ میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت کنٹرول کی سفارش کی گئی ہے۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق ترک حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ صدر طیب ایردوان کی حکمران ’اے کے‘ پارٹی جلد ہی اس معاملے پر پارلیمنٹ میں ایک مسودہ قانون پیش کر سکتی ہے۔ خاندانی اور سماجی خدمات کے وزیر مہنور اوزدیمیر گوکتاس نے گزشتہ ماہ کابینہ کے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ مجوزہ بل میں نابالغوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی اور سروس فراہم کرنے والوں کے لیے مواد فلٹرنگ سسٹم لازمی کرنے کے التزامات شامل ہوں گے۔

Published: undefined

پارلیمانی رپورٹ میں یہ بھی شفارش کی گئی ہے کہ بچوں کے لیے بغیر نوٹس مواد ہٹانے کا انتظام ہو، اس کے ساتھ ہی بچوں کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ویڈیو گیمز اور کھلونوں کی نگرانی کی جائے تاکہ نقصان دہ مواد کو روکا جا سکے۔ رپورٹ میں 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے رات کے وقت انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی لگانے، 18 سال کی عمر تک سوشل میڈیا پر لازمی مواد فلٹرنگ اور 16 سال کی عمر تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی لگانے جیسے مشورے بھی دیئے گئے ہیں۔

Published: undefined

اے کے پارٹی کے سینئر رکن پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کی انسانی حقوق سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کے رکن ہارون مرتوگلو نے کہا کہ بچوں کو اخلاقی گراوٹ سے بچانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بچوں کو ڈیجیٹل سمیت ہر طرح  کی عادات سے بچانے کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی والدین بھی حکومت کے ممکنہ فیصلے سے متفق نظر آرہے ہیں۔ دکاندار بیلما کیچچ اوگلو نے بتایا کہ ان کا 10 سالہ بیٹا گھنٹوں سوشل میڈیا اورموبائل گیمز پر وقت گزارتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً تمام بچے سوشل میڈیا کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اور نقصان دہ مواد اس مسئلے کو مزید سنگین بنارہا ہے۔

Published: undefined

تاہم سوشل میڈیا کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ نابالغوں پر پابندی عمر تصدیق کی کمزور ٹیکنالوجی کی وجہ سے مؤثر نہیں ہوپائے گی اور اس سے بچے بے قابو یاغیر منظم پلیٹ فارمز کی طرف جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ترکیہ پہلے سے ہی سوشل میڈیا کمپنیوں پر سخت ضابطے نافذ کر رہا ہے۔ مقامی سنسر شپ واچ ڈاگ آئی ایف او ڈی کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکیہ میں 2024 کے آخر تک تقریباً 12 لاکھ ویب پیجز اور سوشل میڈیا پوسٹس پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔ موجودہ ضوابط کے تحت کمپنیوں کو دو دن کے اندر سرکاری یا صارف کی درخواست پر کارروائی کرنا ہوتی ہے۔

Published: undefined

ضوابط کی تعمیل نہ کرنے والی سوشل میڈیا کمپنیبوں پر اشتہاری پابندی، انٹرنیٹ بینڈوتھ کم کرنے اور عالمی ریونیو کے 3 فیصد تک جرمانے کا التزام ہے۔ ترکیہ میں 2024 سےگیمنگ پلیٹ فارم روبلوکس، ڈسکارڈ اور اسٹوری شیئرنگ سائٹ واٹ پیڈ پر پر پہلے ہی پابندی ہے۔ اس سے پہلے ترکیہ نے تقریباً تین سال تک وکی پیڈیا پر بھی پابندی عائد کی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined