عالمی خبریں

ایران پر ’اقتصادی پابندی‘ سے متعلق ٹرمپ کی دھمکی نے چین کو کیا ناراض!

بیجنگ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں موجودہ تنازعات کو حل نہیں کریں گی۔ چین نے بات چیت اور سفارتی راستے سے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>چین کا پرچم، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

چین کا پرچم، تصویر آئی اے این ایس

 

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ جب سے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی حکومت پر اب تک کی سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے، تب سے عالمی سطح پر سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانا اور اس کی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔

ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ سے متعلق بیان منظر عام پر آنے کے بعد کچھ ممالک نے اپنا اعتراض ظاہر کیا ہے، جس میں چین بھی شامل ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں موجودہ تنازعات کو حل نہیں کریں گی۔ چین نے بات چیت اور سفارتی راستے سے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔ دراصل چین اور ایران کے درمیان طویل عرصہ سے تجارتی تعلقات ہیں۔ ایسے میں امریکی پابندیوں کا اثر دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے نئی پابندیوں کی دھمکی کو مسترد کر دیا ہے۔ تہران نے مجوزہ امریکی اقدامات کو غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس طرح کا اقتصادی دباؤ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اس درمیان امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے سمندری راستوں پر امریکی کارروائی کے دوران 67 تجارتی جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 3 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا، جبکہ 2 دیگر جہازوں پر امریکی افواج نے سوار ہو کر کارروائی کی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ خاص طور سے آبنائے ہرمز اس کشیدگی کا مرکز بن چکا ہے۔ عمان نے آبنائے ہرمز کی سیکورٹی سے متعلق کہا ہے کہ طویل مدتی استحکام علاقائی امن پر منحصر ہے۔ عمان نے کشیدگی بڑھانے یا کسی تصادم میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ دراصل آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم سمندری راستوں میں سے ایک ہے۔ خلیج فارس سے باہر جانے والے تیل اور گیس کے بڑے حصے کے لیے یہ راستہ انتہائی اہم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔