
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
نیویارک: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا دفاع کیا اور کہا کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 51 برس سے امریکہ اور دنیا کے لیے خطرہ رہا ہے اور ان کے بقول امریکہ ہی وہ ملک ہے جو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کے سامنے دو راستے ہیں- ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جائے جس سے وہ دوبارہ تعمیر کر سکے اور ایک مضبوط ملک بن سکے، یا پھر اس کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ بالآخر تہران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ معاہدہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ہو سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے میں انتخابات ان کے فیصلے کا بنیادی محرک نہیں ہیں اور ان کی توجہ اس بات پر ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
ٹرمپ نے دیگر ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ ایران کو معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے کی امریکی کوشش میں شامل ہوں۔ انہوں نے امریکی فوجی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں ہے اور ملک اپنے فوجی ذخیرے کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کے پاس جدید ترین ہتھیار موجود ہیں۔
خطاب کے دوران ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے اسے ایک ایسا ادارہ قرار دیا جو ان کے بقول بے لگام ہے اور امریکی خودمختاری کے لیے ناقابل قبول خطرہ ہے۔ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم سے متعلق بین الاقوامی قانونی کارروائی کی مخالفت بھی کی۔
گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی کو وسعت دی جائے گی۔ امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ نے امریکی فوجی موجودگی میں توسیع سے متعلق ایک معاہدہ بھی کیا، جس کے تحت گرین لینڈ میں امریکہ کا سکیورٹی کردار بڑھایا جائے گا۔
روس اور یوکرین کے تنازعہ پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ کام کر رہا ہے اور ان کے بقول یہ مسئلہ توقع سے زیادہ جلد حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا خطاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے عالمی اثرات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس 22 ستمبر سے نیویارک میں جاری ہے، جس میں رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام عالمی مسائل پر اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔