عالمی خبریں

ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کو بڑا نقصان، امریکہ کا فضا میں ایندھن بھرنے والا طیارہ عراق میں گر کر تباہ

دوران پرواز دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والا امریکی فضائیہ کا طیارہ عراق کے مغربی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ سینٹرل کمانڈ کے مطابق طیارہ ایک فوجی مشن پر تھا اور اس میں پانچ عملہ ارکان سوار تھے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

 

ایران کے ساتھ جاری جنگی کشیدگی کے دوران امریکہ کو ایک بڑا فضائی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ فضا میں دوسرے جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والا امریکی فضائیہ کا کے سی 135 ٹینکر طیارہ عراق کے مغربی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کے بعد فوری طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

Published: undefined

امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ طیارہ ایک فوجی مشن کے تحت پرواز کر رہا تھا اور اس میں پانچ افراد پر مشتمل عملہ سوار تھا۔ سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق اس آپریشن میں مجموعی طور پر دو طیارے شامل تھے۔ ان میں سے ایک طیارہ محفوظ طریقے سے لینڈ کرنے میں کامیاب رہا جبکہ دوسرا کے سی 135 طیارہ عراق کے مغربی فضائی علاقے میں حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا اور طیارے کے عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثہ کس وجہ سے پیش آیا۔

Published: undefined

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ شواہد سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ طیارہ کسی دشمن حملے یا فائرنگ کا نشانہ بنا ہو۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ کسی مخالف قوت یا کسی اتحادی ملک کی فائرنگ کے باعث پیش آنے کے شواہد بھی نہیں ملے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

کے سی 135 طیارہ امریکی فضائیہ کے اہم ترین ٹینکر طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام دوران پرواز لڑاکا طیاروں اور دیگر فوجی جہازوں کو ایندھن فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ زمین پر اترے بغیر طویل فاصلے تک مشن جاری رکھ سکیں۔ اس مقصد کے لیے طیارے میں ایک خصوصی بوم نظام نصب ہوتا ہے جس کے ذریعے فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن منتقل کیا جاتا ہے۔

Published: undefined

یہ طیارہ کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ کے مختلف فوجی آپریشنز میں استعمال ہو رہا ہے اور اسے فضائی کارروائیوں کا ایک اہم معاون پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورت حال کے دوران اس طرح کے طیاروں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ ان کی مدد سے لڑاکا طیارے زیادہ دیر تک فضا میں رہ کر کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں۔

عراق میں پیش آنے والے اس حادثے نے خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں کے درمیان امریکی فضائی کارروائیوں کو ایک اور جھٹکا پہنچایا ہے، جبکہ حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined