
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے بیک وقت ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے، جس پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے یکطرفہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ اس پیش رفت نے خلیجی خطے میں کشیدگی کو وقتی طور پر کم تو کیا ہے، مگر غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے اندرونی اختلافات اور پاکستان کی قیادت کی درخواست پر امریکہ نے فوری حملہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی افواج مکمل تیاری کی حالت میں رہیں گی اور ناکہ بندی جاری رکھی جائے گی جب تک ایران کی جانب سے کوئی متفقہ اور قابل قبول تجویز سامنے نہیں آتی۔ ان کے مطابق جنگ بندی میں عارضی طور پر توسیع لہ جا رہی ہے تاکہ مذاکرات کا موقع مل سکے۔
Published: undefined
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی اقدام کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ دراصل جنگی اقدام کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور عملے کو حراست میں لینا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ ایران نے عندیہ دیا کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل برآمدات اور سمندری تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے اس کی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔ اس کے برعکس ایرانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال سے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرے گا۔
Published: undefined
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے درمیان اس فیصلے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق جنگ بندی میں توسیع امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ براہ راست جنگ سے بچتے ہوئے ایران پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔ ان کا خیال ہے کہ اس اقدام سے امریکہ کو وقتی مہلت ملی ہے جبکہ ایران کو معاشی اور سفارتی دباؤ کا سامنا رہے گا۔
دوسری رائے رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دراصل ایک نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے جہاں نہ مکمل جنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی واضح امن معاہدہ سامنے آ رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی اور کسی بھی وقت کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined