
ٹیرف معاملے میں ٹرمپ کو جھٹکا
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف نظام کو منسوخ کئے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی مینوفیکچرنگ کے حوالے سے نئی تجارتی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ اس قدم کو ان اربوں ڈالر کے ریونیو کی بھرپائی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے جسے عدالت کے فیصلے کے بعد حکومت کو کھونا پڑا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے بدھ کو یہ تحقیقات ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 301 کے تحت شروع کی ہے۔ اس عمل کے تحت غیر ملکی کمپنیوں اور ممالک کی صنعتی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد ان پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) لگائے جا سکتے ہیں۔
Published: undefined
ٹرمپ انتظامیہ کی نئی ٹریڈ جانچ کے دائرے میں ہندوستان، چین اور بنگلہ دیش سمیت 16 بڑے تجارتی شراکت داروں کو شامل کیا گیا ہے۔ پرانے قانون کے سیکشن 301 کے تحت امریکہ کسی بھی ملک پر ٹیرف یعنی درآمدی ٹیکس بڑھا سکتا ہے۔ یہ قدم امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کو ملک کی سپریم کورٹ کے ذریعہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کئے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ جس کے بعد اب امریکہ نئی جانچ کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Published: undefined
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ اگر تحقیقات میں گڑبڑی پائی جاتی ہے تو کئی ممالک پر نئے ٹیرف لگائے جا سکتے ہیں۔ اس سے متاثر ہونے والے ممالک میں چین، یورپی یونین، ہندوستان، جاپان، جنوبی کوریا اور میکسیکو شامل ہیں۔ جانچ کا مقصد ان ممالک کو دیکھنا ہے جن کے پاس پیداواری صلاحیت زیادہ ہے یا جو لگاتار بڑے تجارتی سرپلسز کے ساتھ امریکہ کو سامان فروخت کرتے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں ملکی صنعت کو نقصان ہوسکتا ہے۔
Published: undefined
اس تحقیقات میں شامل دیگر ممالک میں تائیوان، ویت نام، تھائی لینڈ، ملیشیا، کمبوڈیا، سنگاپور، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، سوئٹزرلینڈ اور ناروے شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر کینیڈا اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایک الگ تحقیقات شروع کر نے جارہا ہے جس میں ان مصنوعات کی درآمد پر روک لگانے کا امکان تلاش کیاجائے گا جو جبراً لیبر سے بنائے جاتے ہیں۔ یہ جانچ 60 سے زیادہ ممالک کا احاطہ کر سکتی ہے۔
Published: undefined
امریکہ نے اس سے قبل بھی چین کے سنکیانگ علاقے سے آنے والے سولر پینلز اور دیگر مصنوعات کے خلاف کارروائی کی تھی۔ یہ کارروائی ایغور فورسڈ لیبر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت کی گئی جس کی توثیق سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران ہوئی تھی۔ امریکہ کا الزام ہے کہ چین کے علاقے سنکیانگ میں ایغور مسلم کمیونٹی کے لوگوں سے جبراً کام کرایا جاتا ہے۔ تاہم چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
Published: undefined
ٹرمپ انتظامیہ نے اس جانچ کے لیے تیز ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ 15 اپریل تک عوامی تبصرے طلب کیے جائیں گے اور 5 مئی کے آس پاس عوامی سماعت ہوگی۔ اس کے بعد جولائی تک جانچ مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس اقدام کو ٹرمپ انتظامیہ کے امریکی تجارتی خسارے کو کم کرنے اور گھریلو مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنے کے بڑے ہدف کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined