عالمی خبریں

امریکہ نے وینزویلا میں ’پراسرار ہتھیار‘ کا کیا تھا استعمال! مادورو کے سیکورٹی اہلکاروں کو خون کی الٹیاں اور ناک سے نکلا خون

وینزویلا پر امریکی حملے میں صدر نکولس مادورو کی حفاظت پر مامورتقریباً 100 فوجیوں کی موت ہوگئی تھی۔ امریکی فوجی مادورو اور ان کی اہلیہ کو اُٹھا کراپنے ساتھ امریکہ لے گئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>وینزویلا کے گرفتار صدر مادورو، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/Its_ereko">@Its_ereko</a></p></div>

وینزویلا کے گرفتار صدر مادورو، تصویر ’ایکس‘ @Its_ereko

 

Weapon

وینزویلا کی سرزمین پر اترکرصدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر کے امریکہ لے جانے والا فوجی آپریشن بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ دریں اثنا خبر ہے کہ اس آپریشن کے دوران امریکہ نے ایک ایسے طاقتور پراسرار ہتھیار کا استعمال کیا تھا جس نے وینزویلا کے فوجیوں کو گھٹنوں پر لا دیا تھا۔ ’نیویارک‘ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مادورو کی سیکیورٹی میں تعینات ایک سیکیورٹی اہلکار نے انٹرویو کے دوران اس امریکی فوجی آپریشن کے بارے میں چونکا دینے والی تفصیلات بتا ئیں۔ سیکورٹی اہلکار نے بتایا کہ کس طرح مٹھی بھرامریکی فوجیوں نے مادورو کی حفاظت پر مامور سینکڑوں فوجیوں کا خاتمہ کردیا۔ امریکی فوجیوں کے پاس جدید ترین ہتھیار تھے اور حیرت انگیز طور پر ایک بھی امریکی فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

Published: undefined

سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ فوجی آپریشن کے دن سب کچھ معمول پر تھا۔ ہم سیکیورٹی ڈیوٹی میں تعینات تھے لیکن اچانک ہمارے تمام ریڈار سسٹم بند ہوگئے۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ تبھی ہمیں کچھ ڈرونز دکھائی دیئے، بہت سے ڈرونز ہمارے بلکل اوپر تھے۔ اس پُراسرار صورتحال سے ہم لوگوں حیران وپریشان رہ گئے۔

Published: undefined

سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ڈرون کے بعد کچھ ہیلی کاپٹر نظر آئے۔ میرے خیال میں 8 ہیلی کاپٹر تھے۔ ان ہیلی کاپٹروں سے کچھ فوجی اترے اغ کی تعداد تقریباً 20 تھی۔ وہ انتہائی جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ اس کے بعد قتل عام جیسا ماحول ہوگیا۔ ہم لوگ بڑی تعداد میں تھے لیکن ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ درست نشانے اور رفتار کے ساتھ شوٹ کر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کا ہر فوجی 300 راؤنڈ فی منٹ فائر کر رہا تھا، ہم کچھ نہیں کر پائے۔

Published: undefined

مادورو کی سیکیورٹی ٹیم کے اس رکن نے بتایا کہ امریکی فوجیوں نے اچانک کچھ لانچ کیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں اسے کیسے سمجھاؤں۔ بہت زوردار آواز آئی، ایسا لگا جیسے میرا سر پھٹ رہا ہے۔ ہم سبھی کی ناک سے خون نکلنے لگا۔ ہم میں سے کئی فوجی خون کی الٹیاں کرنے لگے۔ ہم زمین پر گر پڑے اور ہل بھی نہیں پارہے تھے۔ ان کے مٹھی بھر فوجیوں نے ہم سبھی کو قابو کرلیا۔ وہ جس طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے تھے، ہم اس کا مقابلہ نہیں کرپائے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کی تکنیک نہیں دیکھی تھی۔ ہم اس فوجی پتھیار یا جو بھی وہ تھا، اس کے اثرکی وجہ سے ٹھیک سے کھڑے بھی نہیں ہوپارہے تھے۔

Published: undefined

مادورو کے سیکورٹی اہلکار نے مزید بتایا کہ میں ان سبھی کو وارننگ دینا چاہتا ہوں، جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ امریکہ کا مقابلہ کرپائیں گے۔ انہیں اندازہ نہیں ہے کہ امریکہ کیا کر سکتا ہے۔ میں نے اس دن جو کچھ دیکھا اس کے بعد میں ان سے مقابلہ نہیں کرپاؤں گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ کا اگلا ہدف میکسیکوہے، اس سے کیا لاطینی امریکہ کی صورت حال بدلے گی؟ اس پر سیکورٹی اہلکار نے کہا کہ یقیناً۔ ہر کوئی اس کے بارے میں بات کر رہا ہے، ہر کوئی وہ نہیں چاہتا ہم نے برداشت کیا۔ اب ہر ملک دو بار سوچے گا۔ وینزویلا کے اس سیکیورٹی اہلکار کے آنکھوں دیکھے واقعہ کو وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ ایکس‘پر شیئر کیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined